سپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس 23 جنوری تک جاری رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اسلام آباد: (نیوزڈیسک) قومی اسمبلی کا موجودہ اجلاس 23 جنوری تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی کی ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں قومی اسمبلی کے 23 ویں اجلاس کے ایجنڈے اور دورانیے پر تبادلہ خیال کیا گیا، قومی اسمبلی کے موجودہ اجلاس کو 23 جنوری 2026ء بروز جمعہ تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں قانون سازی وقفہ سوالات اور عوامی اہمیت کے حامل مسائل کو زیر بحث لایا جائے گا۔
اجلاس میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ اور وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے شرکت کی
اجلاس میں وفاقی وزیر خالد حسین مگسی اور اراکین قومی اسمبلی سید نوید قمر، اعجاز حسین جاکھرانی، سید حفیظ الدین، سید امین الحق محترمہ نزہت صادق، محترمہ سیدہ شہلا رضا، نور عالم خان اور شیخ آفتاب نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی اجلاس میں
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ