مری میں متوقع برفباری کے پیش نظر ’’مشن سیف ونٹر‘‘ کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
مری (نیوزڈیسک) ملکہ کوہسار مری میں رواں ہفتے متوقع برفباری کے پیش نظر’’مشن سیف ونٹر‘‘کا آغاز کر دیا گیا، سیاحوں کی حفاظت کے لیے فول پروف ’’ڈیجیٹل اور فیلڈ حصار‘‘ قائم کردیا گیا ، سیاحوں سے برفباری کے دوران غیرضروری سفر سے گریز کی اپیل بھی کی گئی ہے ۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے مری میں 17 سے 21 جنوری تک پوری فورس کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے ، ممکنہ شدید برفباری کے پیش نظر اضافی نفری طلب کر لی گئی ، سینئر افسران فیلڈ میں موجود ہوں گے ، سیف سٹی کیمروں کے ذریعے حساس سڑکوں کی ریئل ٹائم نگرانی کا نظام فعال کردیا گیا ۔
پولیس حکام کا کہنا ہے مری کا سفر جدید مانیٹرنگ اور رسپانس سسٹم کے سائے میں محفوظ ہوگا،ڈھلوانی سڑکوں اور لینڈ سلائیڈ والے علاقوں میں پولیس گشت مؤثر بنا دیا گیا ہے ۔ گاڑی کھڑی ہونے کی صورت میں ایک کھڑکی کھلی رکھیں تاکہ آکسیجن کم نہ ہو ، سیاح ایمرجنسی صورتحال میں فوری مدد کے لیے ون فائیؤ پر رابطہ کریں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: برفباری کے
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔