ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں، کیوبا کے صدر نے امریکا کے ساتھ مذاکرات سے انکار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے امریکا کے ساتھ مذاکرات سے صاف انکار کردیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میگوئل دیاز کانیل نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ سوائے امیگریشن کے تکنیکی مسائل کے علاوہ کسی بھی معاملے پر بات چیت نہیں ہو رہی۔
مزید پڑھیں: کوئی ہمیں حکم نہیں دے سکتا کہ کیا کرنا ہے، کیوبن صدر کا ٹرمپ کی دھمکی پر سخت ردعمل
صدر کانیل کا یہ مؤقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیوبا پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنے اور دھمکی دینے کے بعد سامنے آیا۔
صدر کانیل نے کہاکہ امریکی حکومت کے ساتھ مہاجرین کے سوا کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔
ان کا یہ ردعمل اس بیان کے بعد آیا جس میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکا اور کیوبا کے درمیان بات چیت جاری ہے۔
ٹرمپ نے الزام عائد کیاکہ کیوبا نے برسوں تک وینزویلا سے حاصل ہونے والے تیل اور مالی وسائل پر گزارا کیا اور اس کے بدلے وینزویلا کے دو رہنماؤں کو سیکیورٹی فراہم کی۔
انہوں نے خبردار کیاکہ اب امریکا کی طاقتور فوج وینزویلا کو تحفظ فراہم کر رہی ہے اور کیوبا کو مزید تیل یا مالی مدد نہیں ملے گی، اس لیے فوری معاہدہ کرنا ضروری ہے ورنہ دیر ہو جائے گی۔
مزید پڑھیں: جلد معاہدہ نہ کیا تو سنگین نتائج ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کا کیوبا کو انتباہ
صدر ٹرمپ کی دھمکی پر گزشتہ کیوبا کے صدر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیوبا ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور کوئی بھی ملک یا رہنما انہیں یہ حکم نہیں دے سکتا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیوبا کے صدر مذاکرات سے انکار وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیوبا کے صدر مذاکرات سے انکار وی نیوز کیوبا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹرمپ کی
پڑھیں:
ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔
Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN
— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘
دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔
تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔