پی ایس ڈی پی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر سے اجتناب برتا جائے، نگران وزیر اعلیٰ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد نے صوبائی سیکریٹری مواصلات و تعمیرات عامہ کو ہدایت کی کہ صوبے کے سنو باؤنڈ ایریاز (برف باری والے علاقوں) میں بڑی آبادی رہائش پذیر ہے جن کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے سنو باؤنڈ ایریاز (برف باری والے علاقوں) تک رسائی ممکنہ حد تک برقرار رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد نے محکمہ مواصلات و تعمیرات عامہ کی جانب سے دی جانے والی محکمانہ بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات عامہ صوبے کے انفراسٹرکچر اور تعمیر و ترقی کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ منصوبوں کی تعمیر میں پی سی ون کی تیاری پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ناقص PC-1 بننے کے عمل کو ختم کیا جا سکے اور مفاد عامہ کے منصوبے التواء کا شکار نہ ہوں اور غیر ضروری رویژن کی ضرورت نہ پڑے، خزانے پر غیر ضروری بوجھ کو بھی روکا جا سکے۔ ٹارگٹڈ منصوبوں کے ٹائم لائنز کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان اہم منصوبوں کی بروقت تکمیل ممکن ہو سکے۔ مختلف محکموں کے زیر التواء (سک) منصوبوں کی وجہ سے قومی خزانے کو کافی نقصان پہنچا ہے، مستقبل میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے محکمہ مواصلات و تعمیرات عامہ جامع پالیسی مرتب کرے اور مانیٹرنگ کا سسٹم وضع کرے۔
نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پی ایس ڈی پی منصوبے خصوصاً شاہراہ نگر، داریل تانگیر ایکسپریس وے، استور ویلی روڈ، شغرتھنگ استور شاہراہ، ہنزہ گریٹر واٹر سپلائی سکیم جیسے اہم منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر سے اجتناب برتا جائے اور بروقت ان منصوبوں کو مکمل کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ نگران وزیر اعلیٰ نے صوبائی سیکریٹری مواصلات و تعمیرات عامہ کو ہدایت کی کہ صوبے کے سنو باؤنڈ ایریاز (برف باری والے علاقوں) میں بڑی آبادی رہائش پذیر ہے جن کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے سنو باؤنڈ ایریاز (برف باری والے علاقوں) تک رسائی ممکنہ حد تک برقرار رکھا جائے۔ اس سلسلے میں محکمہ درکار وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور اقدامات کرے۔ نگران وزیر اعلیٰ نے ایمرجنسی کے تحت مکمل کئے جانے والے منصوبوں کے بقایاجات کی ادائیگی کیلئے بھی اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مواصلات و تعمیرات عامہ برف باری والے علاقوں سنو باؤنڈ ایریاز نگران وزیر اعلی منصوبوں کی
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔