ہمیں دیکھنا ہوگا ایسا کیوں اور کن حالات میں کیا گیا؟ راجا پرویز اشرف
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ایسا کیوں ہوا اور کن حالات میں ایسا کیا گیا۔
جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں پرویز اشرف نے کہا کہ آرڈیننس پر صدر کے دستخط اہم ہیں، اسے صدارتی آرڈیننس اسی لیے کہا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس نافذ ہو ہی نہیں سکتا، ایسا آرڈیننس غیر آئینی اورغیر قانونی ہوجاتا ہے۔
سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ مجھےنہیں معلوم یہ کیسے ہوا اور یہ غلطی کیوں ہوئی، میرا خیال ہے اس پر کل بات ہوگی، غلطی سے متعلق چیزیں واضح ہوجائیں گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ کسی بھی فورم پر اس آرڈیننس کی قبولیت صفر ہے، فوری طور پر اس عمل کی تصحیح کی جائے۔
راجا پرویز اشرف نے یہ بھی کہا کہ دیکھیں گے وزیرقانون نے کیا مؤقف اپنایا ہے، اگر وضاحت قابل قبول ہوئی تو ٹھیک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پرویز اشرف ا رڈیننس کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔