روس: ماسکو میں برفباری نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے، برف کے ڈھیر لگ گئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
روس کے دارالحکومت ماسکو میں گزشتہ چار روز سے جاری شدید برفباری نے زندگی کے معمولات کو شدید متاثر کر دیا۔
روس کے محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں برف کی مجموعی موٹائی 40 سے 50 سینٹی میٹر تک ریکارڈ کی گئی، جو موسمیاتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ صرف 24 گھنٹے کے دوران پڑنے والی برف کی مقدار جنوری کے اوسط ماہانہ معیار کے 40 فیصد سے زائد کے برابر رہی۔
شہر کے مضافات میں برف مزید زیادہ ریکارڈ کی گئی جبکہ کھلے علاقوں میں برفانی ڈھیر ایک میٹر کے قریب تک پہنچ گیا، شدید برفباری کے باعث ہوائی ٹریفک بھی متاثر ہوئی اور درجنوں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔
ایئرپورٹس پر کلیئرنگ مشینوں اور عملے کو مسلسل آپریشن جاری رکھنا پڑا جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی سست اور بعض مقامات پر جام کی کیفیت دیکھنے میں آئی۔
بلدیاتی اداروں نے درجنوں برف صاف کرنے والی گاڑیاں اور ہزاروں اہلکار تعینات کیے ہیں جو مرکزی شاہراہوں، پلوں اور فٹ پاتھوں سے برف ہٹانے میں مصروف ہیں، حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور گاڑیوں کو موسم کے مطابق تیار رکھنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
درجہ حرارت منفی 17 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جانے کے باعث برفانی لیر جمنے اور سڑکوں کے پھسلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، ہسپتالوں اور ایمرجنسی سروسز نے سرد موسم اور پھسلن سے متعلق حادثات میں اضافہ رپورٹ کیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران بھی کڑی سردی برقرار رہنے اور وقفے وقفے سے مزید ہلکی برفباری کی پیش گوئی کی ہے، تاہم اس کے بعد موسم میں معمولی بہتری کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں