Express News:
2026-06-02@20:40:49 GMT

مفاہمت اور مزاحمت کی سیاسی کشمکش

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

قومی سیاست قیاس آرائیوں اور سیاسی چہ مگوئیوں کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہے اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی تجزیاتی تقسیم اور ٹکراؤ کی سیاست کے کھیل نے ہمیں آگے بڑھنے کے عمل سے روک دیا ہے۔دوسری طرف شخصیت پرستی اور پالیسی میں تضادات نے مجموعی طوراہل دانش کہلانے والے طبقے کومدلل اور حقائق پر مبنی تجزیے کرنے سے روک رکھا ہے ۔

ایک طرف یہ منطق دی جاتی ہے کہ سیاست اور معیشت میں مکمل استحکام ہے اور ہم معاشی ترقی کے نئے امکانات کی طرف بڑھ رہے ہیں اوریہ بھی دلیل دی جاتی ہے کہ ملک میں سیاسی کشیدگی اور ٹکراؤ کا کھیل ختم ہونا چاہیے۔ ادھر حکمران طبقہ مختلف حوالوں سے مذاکرات اور مفاہمت کی بات بھی کررہا اور اپنے سیاسی مخالفین کو بات چیت کی دعوت بھی دے رہا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ کنفیوژن کا منظر ان کے لیے بھی مسائل پیدا کر رہا ہے۔

پچھلے دنوں سینیٹر رانا ثنا اللہ جو حکومتی ٹیم کے اہم رکن ہیں ان کے بقول اگر ملک کے پانچ بڑے طاقت ور افراد مل کر بیٹھ جائیں تو حالات کی بہتری کا درمیانی راستہ نکل سکتا ہے۔ان کا اشارہ نواز شریف اور شہباز شریف سمیت آصف علی زرداری ، عمران خان اور فوجی قیادت کی طرف تھا ۔ویسے تو اصل میں ان پانچ فریقوں میںنہیں بلکہ صرف بانی پی ٹی آئی کی سیاست ٹکراؤ کی علامت بنی ہوئی ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کو چھوڑ دینے والے سیاسی رہنما فواد چوہدری جو اب بھی خود کو پی ٹی آئی میں شامل ہی سمجھتے ہیںلیکن پی ٹی آئی انھیں اپنا نہیں سمجھتی ‘ان کی نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی کانفرنس میں یہ  اعلامیہ جاری ہوا ہے کہ ملک کی سیاسی اور غیر سیاسی قیادت مل بیٹھ کر نہ صرف سیاسی مسائل کا حل تلاش کرے بلکہ اس عمل میں ایک بڑی پہل حکومت کو جیلوں میں بند پی ٹی آئی کے سزا یافتہ قیدیوں کی رہائی کی صورت میں دکھانی ہوگی۔یہ الگ بات ہے کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی کانفرنس کے اصل فریقین جن میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت سمیت پی ٹی آئی کی جانب سے اس میں عدم شرکت تھی جس سے اس کانفرنس کا وہ مقصد نہیں سامنے آسکا جو آنا چاہیے تھا۔لیکن کیونکہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد مفاہمت کی سیاست کو قریب لانا تھا تو اس عمل کی یقینی طور پر حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت کا موقف الگ ہے جب کہ حکومت کا مفاہمت کے حوالے سے اپنا موقف ہے۔

حکومت ایک ہی جملے میں قومی مفاہمت اور بات چیت کی طرف اشارہ کرتی یا اس کی حمایت کرتی  ہے تو دوسری طرف ان کی بانی پی ٹی آئی اور پی ٹی آئی کے بارے میں سخت گیر پالیسی ہے۔بانی پی ٹی آئی کو سیکیورٹی تھریٹ کہنا‘دو متوازی حکمت عملیوں کو ظاہر کرتا ہے۔

 مائنس بانی پی ٹی آئی کی باتیں اور، وزیر اعلی خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کے بارے میںحکمران جماعت کا سخت لب و لہجہ مفاہمت کے امکان کو ختم کرتا ہے۔لہٰذا ان سب میں مفاہمت کی باتیں فی الحال سیاسی نعروں تک ہی محدود ہیں اور ہمیں مذاکرات کی سیاسی بیٹھک کے بارے میں کسی امید کے پہلو کم نظر آتے ہیں ۔

ملک کے بعض تجزیہ نگار یہ دلیل بھی پیش کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت کی پی ٹی آئی کے بارے میں اب تک کی پالیسی نے وہ نتائج نہیں دیے جو ان کو درکار تھے کیونکہ پی ٹی آئی میںکوئی الگ دھڑا سامنے نہیں آ سکا۔ اس ناکامی کی بنیاد پر ہی مفاہمت کی باتیں سامنے آئی ہیں ۔ کیونکہ مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے میں بنیادی نوعیت کا فرق یہ ہوتا ہے اور ہم سب فریق اس نقطہ کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا جان بوجھ کر اس اہم نقطہ کو نظر انداز کیا جارہا ہے کہ مذاکرات کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں۔

حکمران طبقہ کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کی اب تک کی بانی پی ٹی یا پی ٹی آئی کے بارے میںپالیسی واضح نہیں ہے۔اسی بنیاد پر سیاسی پنڈت یہ اعتراف بھی کررہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی یا پی ٹی آئی مخالف بیانیہ وہ نتائج نہیں دے رہا جو دینے چاہئیں۔ کچھ سیاسی پنڈتوں کے بقول موجودہ حالات میں ملک میں مفاہمت کی سیاست خود سیاسی فریقین کی مجبوری بن گئی ہے لیکن اصل مسئلہ معاملات کو لے کر آگے چلنے کے طریقے کا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے بانی یا پارٹی کی مزاحمت نے جہاں ان کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں‘وہاں  حکومتی مشکلات میں اضافہ کردیا جو خود حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔کیونکہ حکومتی طبقہ سمجھتا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مفاہمت کے امکانات محدود ہیں۔اس لیے مسلم لیگ ن یا حکومت کی مفاہمت کی سنجیدگی پر بھی بہت سے سوالیہ نشان ہیں ۔خود پیپلز پارٹی کی اپنی سیاست میں ہمیںقومی مسائل اور ا س کی حکمت عملی کی سطح پر مختلف تضاد دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اس وقت اسٹیبلیشمنٹ کے حلقوں میں بھی بانی پی ٹی آئی کے بارے میں کوئی نرم گوشہ دیکھنے کو نہیں مل رہا ۔

پی ٹی آئی کی اصل طاقت بانی پی ٹی آئی ہی ہیں اورپی ٹی آئی کے اندر فی الحال ان کو نظرانداز کرکے مفاہمت کے عمل کو لے کر چلنے کی کسی میںطاقت اور قوت نظر نہیں آ رہی۔ ادھرحکمران سیاسی جماعتوں اور سسٹم کی جانب سے پی ٹی آئی اور بالخصوص اسیران پی ٹی آئی جو جیلوں میں قید ہیں ان کے لیے کسی قسم کی کوئی نرمی نظر آ رہی ہے ۔نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی بھی اتنی ایفیکٹ نظر نہیں آ رہی جتنا کہ اسے نظر آنا چاہیے تھا۔ اس کی بات کو بھی کسی نے پذیرائی نہیں دی ہے۔

پی ٹی آئی کے اندر لوگوں نے بھی اسے پذیرائی نہیں دی ہے۔اسی طرح جو لوگ یہ مشورہ دیتے ہیںکہ بانی پی ٹی آئی اور پی ٹی آئی کا علاج مفاہمت سے نہیں بلکہ طاقت کی حکمت عملی سے ہی جڑا ہوا ہے وہ بھی زمینی حقائق کو سمجھنے میں ناکام ہیں۔ اصولی طور پر جہاں حکومت یا اسٹیبلیشمنٹ کو مفاہمت کا طرز عمل اختیار کرنا ہے وہاں خود بانی پی ٹی آئی اور پی ٹی آئی کو بطور جماعت اپنی مزاحمت،سیاسی تلخیوں،سخت گیر سطح کی بیان بازی اور شخصیات کو ٹارگٹ کرنے کی پالیسی سے گریز کرکے خود کو بھی مفاہمت کی سیاست میں مثبت طور پر پیش کرنا ہوگا۔کیونکہ مسئلہ جہاں حکومت کی طرف سے دیکھنے کو مل رہا ہے وہاں پی ٹی آئی کی داخلی سیاست اور مفاہمت پر مبنی ایجنڈے کے مسائل بھی مفاہمت کی سیاست کو کمزور کررہے ہیں۔

سیاست میں مفاہمت کا کھیل درمیانی راستے اور لچک دار رویے یا کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہوتا ہے۔اسی لیے جب تک فریقین میں ایک دوسرے کے بارے میں سیاسی تلخی،شخصی کشیدگی اور بداعتمادی کا ماحول سمیت ایک دوسرے کے بارے میں سنگین الزامات جیسے ریاست دشمنی کے ختم نہیں ہونگے بات آگے نہیں بڑھ سکے گی۔یہ جو ہم نے سیاسی اختلافات کو سیاسی دشمنی یا کسی کے وجود کو ختم کرنے کی پالیسی سے گریز نہ کیا تو تب بھی معاملات بہتری کی طرف نہیں بڑھ سکیں گے۔

قومی مفاہمت کی اس سیاست کو محض چند فریقین یا سیاسی جماعتوں تک محدود ہوکر نہ دیکھا جائے بلکہ مفاہمت کی یہ پالیسی ہمارے پورے سیاسی ڈھانچہ کے مفاد میں ہے اور اسی مفاہمت کی پالیسی سے سیاسی ،معاشی اور سیکیورٹی کا استحکام جڑا ہوا ہے ۔کیونکہ ٹکراؤکی پالیسی کسی کے حق میں بہتر نہیں ہے۔معاملات کو طے کرنے کا بہترین طریقہ مذاکرات ہی ہے۔اس لیے قومی سیاست میں ایک بڑا اتفاق رائے اور ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو تسلیم کرکے آگے بڑھنے کی حکمت عملی ہی مجموعی طور پر ریاست کے مفاد میں ہے ۔یہ کام سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں اور اس میں سب فریقین کو اپنے اپنے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر ایک بڑے ریاستی اور عوام کے مفادات کے تابع ہوکر سوچنا ہوگا،یہ ہی ہمارے مفاد میں ہے۔

پاکستان میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے اور یہ کہ اس کا احتساب نہیں ہونا چاہیے‘ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے لیے بھی بہتر ہے کہ وہ ایسا بیانیہ بنانے سے گریز کی پالیسی اختیار کرے جو ملک کے وائٹل انٹرسٹ کے اگینسٹ سمجھا جائے۔ملک کے تجزیہ کاروں کو بھی چاہیے کہ وہ زمینی حقائق کو دیکھ کر اور پرکھ کر اپنا تجزیہ اختیار کریں کیونکہ غیر حقیقی تجزیے پراپیگنڈے کے زمرے میں ہی سمجھے جائیں گے۔ بہر حال مفاہمت ایک ایسا لفظ ہے جس کی کوئی مخالفت نہیں کرتا لیکن مفاہمت کی منزل تک پہنچنے کے لیے سیاسی فریقین کو اپنے اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مفاہمت کی سیاست بانی پی ٹی آئی ئی کے بارے میں پی ٹی آئی اور پی ٹی ا ئی کے پی ٹی آئی کے پی ٹی آئی کی مفاہمت کے کی پالیسی سیاست میں بنیاد پر ہیں اور ا چاہیے ہے اور کی بات ئی اور نہیں ا رہا ہے کے لیے کی طرف ملک کے

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے