Jasarat News:
2026-07-24@03:35:01 GMT

اگر آج ہم ایک نہ ہوئے تو تاریخ ہمیں بکھرا ہوا لکھے گی

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260113-03-3

 

جمیل احمد خان

یہ وقت محض سیاسی اختلافات کا نہیں، یہ وقت قوموں کے امتحان کا ہے۔ تاریخ کے کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب زمین صرف زمین نہیں رہتی، یہ امانت بن جاتی ہے اور اقتدار صرف کرسی نہیں رہتا بلکہ ذمے داری بن جاتا ہے۔ آج پاکستان اسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ نسلوں کو اندھیرے میں دھکیل سکتا ہے اور ایک درست قدم صدیوں کی تقدیر سنوار سکتا ہے۔ قوم کی آنکھوں میں سوال ہیں، دلوں میں بے چینی ہے اور امیدیں اب بھی اس مٹی سے وابستہ ہیں، اس مٹی سے جس کے لیے لاکھوں قربانیاں دی گئیں، جس کے لیے خواب دیکھے گئے اور جس کے نام پر آج بھی دل دھڑکتا ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی، دینی اور عسکری قیادت کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اب فاصلے کم کرنے کا وقت آچکا ہے۔ دنیا کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، عالمی طاقتوں کے مفادات نئی شکل اختیار کر رہے ہیں اور کمزور قوموں کے لیے گنجائش روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں داخلی انتشار، باہمی نفرتیں اور انا کی دیواریں ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گی۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ضد اور ہٹ دھرمی قوموں کو توڑ دیتی ہے۔ قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں اور اگر کشتی ڈوبی تو کوئی تنہا نہیں بچے گا۔

قوم کی رائے کا احترام کرنا محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی تقاضا ہے۔ عوام کی آواز کو دبانے سے خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے، مگر سکون نہیں۔ دلوں کو جیتا جاتا ہے، فتح نہیں کیا جاتا۔ جب قوم یہ محسوس کرے کہ اس کی بات سنی جا رہی ہے، اس کے دکھ کو سمجھا جا رہا ہے اور اس کی رائے کو اہمیت دی جا رہی ہے تو وہ خود اختلافات کے باوجود ریاست کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ فیصلے بند کمروں کے بجائے قوم کے اعتماد کے ساتھ کیے جائیں، تاکہ ریاست اور عوام کے درمیان خلیج کم ہو، نہ کہ وسیع۔

قوم کو متحد رکھنا کسی ایک ادارے یا ایک جماعت کی ذمے داری نہیں، یہ سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ اتحاد تقریروں سے نہیں، رویّوں سے پیدا ہوتا ہے۔ جب مخالف کو دشمن سمجھ لیا جائے تو اتحاد مر جاتا ہے۔ دل بڑا کرنا ہوگا، سب کو۔ ماضی کی تلخیاں، ذاتی رنجشیں اور سیاسی حساب کتاب اگر قومی مفاد کے راستے میں حائل ہیں تو پھر یہ سب قربان کرنا ہوں گے۔ بڑی قومیں وہی ہوتی ہیں جو بڑے دل رکھتی ہیں، جو معاف کرنا جانتی ہیں اور جو آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ہماری آپس کی محبتیں، ہمارا باہمی احترام اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جذبہ ہی ہمیں کامیابی کی منازل طے کرا سکتا ہے۔ نفرت کی سیاست نے ہمیں کچھ نہیں دیا، سوائے تقسیم، مایوسی اور عدم استحکام کے۔ اب وقت آچکا ہے کہ باتوں کو سنا جائے، سب کے ساتھ بیٹھا جائے، اور سب کو اپنے قریب لایا جائے۔ مکالمہ کمزوری نہیں، دانش مندی کی علامت ہے۔ جو قیادت سننا جانتی ہے، وہی قیادت تاریخ میں سرخرو ہوتی ہے۔ تمام جائز مطالبات کو دل سے تسلیم کرنا ہوگا، نہ کہ وقتی دباؤ کے تحت۔ جب مطالبات کو مان کر بھی عمل نہ کیا جائے تو بداعتمادی جنم لیتی ہے، اور یہی بداعتمادی ریاستوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ وعدے کاغذوں پر نہیں، زمین پر نظر آنے چاہئیں۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ نظر بھی آنا چاہیے، تاکہ مظلوم کو یقین ہو اور طاقتور کو حد کا احساس رہے۔

کراچی، بلوچستان، خیبر پختون خوا، ہزارہ، سرائیکی خطہ، گلگت بلتستان اور دیگر تمام علاقوں کے مسائل محض فائلوں کا بوجھ نہیں بلکہ زندہ انسانوں کا درد ہیں۔ ان علاقوں کے لوگ بھی اسی پرچم کے سائے میں جینا چاہتے ہیں، اسی آئین کے تحت عزت چاہتے ہیں اور اسی ریاست سے انصاف کے طلب گار ہیں۔ فوری اور مؤثر پلان کی ضرورت ہے، محض کمیٹیاں نہیں، بلکہ قابل ِ عمل حکمت عملی جو زمین پر نتائج دے۔ ترقی کا سفر تبھی ممکن ہے جب ہر خطہ خود کو اس سفر کا حصہ سمجھے، مسافر نہیں بلکہ شریک ِ سفر۔ دیر کرنے کی اب گنجائش نہیں۔ تاریخ انتظار نہیں کرتی، حالات کسی کے لیے نہیں رکتے۔ اگر ہم نے آج دانش مندی، اخلاص اور اتحاد کا راستہ اختیار نہ کیا تو کل حالات ہم سے وفا نہیں کریں گے۔ قومیں تب بکھرتی ہیں جب قیادت لمحہ ٔ فیصلہ میں تذبذب کا شکار ہو جائے۔ ہمیں آج ہی یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمیں نفرت کی سیاست کرنی ہے یا محبت کی، تقسیم کا راستہ اپنانا ہے یا اتحاد کا، اور ذاتی مفاد کو ترجیح دینی ہے یا قومی بقا کو۔

آخر میں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں، یہ ایک عہد ہے، ایک امانت ہے اور ایک خواب ہے۔ یہ خواب تبھی زندہ رہے گا جب ہم سب مل کر اس کی حفاظت کریں گے۔ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں گے، ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں گے اور اس مٹی کے قرض کو چکانے کے لیے ذاتی انا کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ اگر ہم نے آج دل نہ بڑا کیا تو کل دل ٹوٹ جائیں گے اور اگر ہم نے آج قوم کو نہ جوڑا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

گوہر ایوب جمیل احمد خان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایک دوسرے نہیں بلکہ ہیں اور کے لیے ہے اور

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن