عسکری ٹاور حملہ کیس: خدیجہ شاہ سمیت چار ملزمان اشتہاری قرار
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
لاہور:
لاہور کی عدالت نے 9 مئی عسکری ٹاور حملہ کیس کے غیر حاضر ملزمان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ کی بیٹی خدیجہ شاہ سمیت چار ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے سماعت کی۔ عدالت نے خدیجہ شاہ، حمزہ سہیل، عثمان اسلم اور احمد مرسلین کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
عدالت نے ملزم زین الحسن کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں اور عدالت نے ملزم زین الحسن کے خلاف اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کی ہے۔ ملزمان عسکری ٹاور حملہ مین ٹرائل کیلئے پیش نہیں ہو رہے تھے۔
سرکاری وکیل کے مطابق خدیجہ شاہ نو مئی کے ایک مقدمہ میں سزا کے بعد روپوش ہو چکی ہے، خدیجہ شاہ سمیت دیگر گرفتاری کے ڈر سے پیش نہیں ہو رہے، ملزمان کو پیش ہونے کی مہلت دی گئی مگر ہیش نہ ہوئے حتی کہ ملزمان وارنٹ گرفتاری جاری ہونے بعد بھی پیش نہیں ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔