اگر آج ہم ایک نہ ہوئے تو تاریخ ہمیں بکھرا ہوا لکھے گی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یہ وقت محض سیاسی اختلافات کا نہیں، یہ وقت قوموں کے امتحان کا ہے۔ تاریخ کے کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب زمین صرف زمین نہیں رہتی، یہ امانت بن جاتی ہے اور اقتدار صرف کرسی نہیں رہتا بلکہ ذمے داری بن جاتا ہے۔ آج پاکستان اسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ نسلوں کو اندھیرے میں دھکیل سکتا ہے اور ایک درست قدم صدیوں کی تقدیر سنوار سکتا ہے۔ قوم کی آنکھوں میں سوال ہیں، دلوں میں بے چینی ہے اور امیدیں اب بھی اس مٹی سے وابستہ ہیں، اس مٹی سے جس کے لیے لاکھوں قربانیاں دی گئیں، جس کے لیے خواب دیکھے گئے اور جس کے نام پر آج بھی دل دھڑکتا ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی، دینی اور عسکری قیادت کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اب فاصلے کم کرنے کا وقت آچکا ہے۔ دنیا کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، عالمی طاقتوں کے مفادات نئی شکل اختیار کر رہے ہیں اور کمزور قوموں کے لیے گنجائش روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں داخلی انتشار، باہمی نفرتیں اور انا کی دیواریں ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گی۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ضد اور ہٹ دھرمی قوموں کو توڑ دیتی ہے۔ قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں اور اگر کشتی ڈوبی تو کوئی تنہا نہیں بچے گا۔
قوم کی رائے کا احترام کرنا محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی تقاضا ہے۔ عوام کی آواز کو دبانے سے خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے، مگر سکون نہیں۔ دلوں کو جیتا جاتا ہے، فتح نہیں کیا جاتا۔ جب قوم یہ محسوس کرے کہ اس کی بات سنی جا رہی ہے، اس کے دکھ کو سمجھا جا رہا ہے اور اس کی رائے کو اہمیت دی جا رہی ہے تو وہ خود اختلافات کے باوجود ریاست کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ فیصلے بند کمروں کے بجائے قوم کے اعتماد کے ساتھ کیے جائیں، تاکہ ریاست اور عوام کے درمیان خلیج کم ہو، نہ کہ وسیع۔
قوم کو متحد رکھنا کسی ایک ادارے یا ایک جماعت کی ذمے داری نہیں، یہ سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ اتحاد تقریروں سے نہیں، رویّوں سے پیدا ہوتا ہے۔ جب مخالف کو دشمن سمجھ لیا جائے تو اتحاد مر جاتا ہے۔ دل بڑا کرنا ہوگا، سب کو۔ ماضی کی تلخیاں، ذاتی رنجشیں اور سیاسی حساب کتاب اگر قومی مفاد کے راستے میں حائل ہیں تو پھر یہ سب قربان کرنا ہوں گے۔ بڑی قومیں وہی ہوتی ہیں جو بڑے دل رکھتی ہیں، جو معاف کرنا جانتی ہیں اور جو آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ہماری آپس کی محبتیں، ہمارا باہمی احترام اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جذبہ ہی ہمیں کامیابی کی منازل طے کرا سکتا ہے۔ نفرت کی سیاست نے ہمیں کچھ نہیں دیا، سوائے تقسیم، مایوسی اور عدم استحکام کے۔ اب وقت آچکا ہے کہ باتوں کو سنا جائے، سب کے ساتھ بیٹھا جائے، اور سب کو اپنے قریب لایا جائے۔ مکالمہ کمزوری نہیں، دانش مندی کی علامت ہے۔ جو قیادت سننا جانتی ہے، وہی قیادت تاریخ میں سرخرو ہوتی ہے۔ تمام جائز مطالبات کو دل سے تسلیم کرنا ہوگا، نہ کہ وقتی دباؤ کے تحت۔ جب مطالبات کو مان کر بھی عمل نہ کیا جائے تو بداعتمادی جنم لیتی ہے، اور یہی بداعتمادی ریاستوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ وعدے کاغذوں پر نہیں، زمین پر نظر آنے چاہئیں۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ نظر بھی آنا چاہیے، تاکہ مظلوم کو یقین ہو اور طاقتور کو حد کا احساس رہے۔
کراچی، بلوچستان، خیبر پختون خوا، ہزارہ، سرائیکی خطہ، گلگت بلتستان اور دیگر تمام علاقوں کے مسائل محض فائلوں کا بوجھ نہیں بلکہ زندہ انسانوں کا درد ہیں۔ ان علاقوں کے لوگ بھی اسی پرچم کے سائے میں جینا چاہتے ہیں، اسی آئین کے تحت عزت چاہتے ہیں اور اسی ریاست سے انصاف کے طلب گار ہیں۔ فوری اور مؤثر پلان کی ضرورت ہے، محض کمیٹیاں نہیں، بلکہ قابل ِ عمل حکمت عملی جو زمین پر نتائج دے۔ ترقی کا سفر تبھی ممکن ہے جب ہر خطہ خود کو اس سفر کا حصہ سمجھے، مسافر نہیں بلکہ شریک ِ سفر۔ دیر کرنے کی اب گنجائش نہیں۔ تاریخ انتظار نہیں کرتی، حالات کسی کے لیے نہیں رکتے۔ اگر ہم نے آج دانش مندی، اخلاص اور اتحاد کا راستہ اختیار نہ کیا تو کل حالات ہم سے وفا نہیں کریں گے۔ قومیں تب بکھرتی ہیں جب قیادت لمحہ ٔ فیصلہ میں تذبذب کا شکار ہو جائے۔ ہمیں آج ہی یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمیں نفرت کی سیاست کرنی ہے یا محبت کی، تقسیم کا راستہ اپنانا ہے یا اتحاد کا، اور ذاتی مفاد کو ترجیح دینی ہے یا قومی بقا کو۔
آخر میں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں، یہ ایک عہد ہے، ایک امانت ہے اور ایک خواب ہے۔ یہ خواب تبھی زندہ رہے گا جب ہم سب مل کر اس کی حفاظت کریں گے۔ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں گے، ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں گے اور اس مٹی کے قرض کو چکانے کے لیے ذاتی انا کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ اگر ہم نے آج دل نہ بڑا کیا تو کل دل ٹوٹ جائیں گے اور اگر ہم نے آج قوم کو نہ جوڑا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایک دوسرے نہیں بلکہ ہیں اور کے لیے ہے اور
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔