امریکا میں پاکستانی قیادت کا نیا باب
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260113-03-4
محمد مطاہر خان
امریکا کی سیاسی تاریخ میں بعض لمحات محض انتخابی نتائج نہیں ہوتے بلکہ تہذیبی مکالمے، سماجی ارتقا اور اقلیتوں کی جدوجہد کے روشن استعارے بن جاتے ہیں۔ امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر کیمبرج میں حالیہ بلدیاتی انتخاب بھی ایسا ہی ایک معنی خیز لمحہ ثابت ہوا ہے جہاں پہلی بار میئر اور ڈپٹی میئر، دونوں مناصب پر پاکستانی نژاد مسلمان نوجوان منتخب ہوئے۔ یہ کامیابی محض دو افراد کی ذاتی پیش رفت نہیں بلکہ پاکستانی تارکین ِ وطن، مسلم کمیونٹی اور بالخصوص خواتین و نوجوانوں کی سیاسی شمولیت کی ایک مضبوط علامت ہے، جو امریکی جمہوری عمل کے اندر اپنی جگہ بناتے ہوئے اب فیصلہ سازی کے ایوانوں تک رسائی حاصل کر چکی ہے۔ کیمبرج، جو دنیا کی ممتاز جامعات، فکری آزادی، سائنسی تحقیق اور سیاسی شعور کے حوالے سے جانا جاتا ہے، وہاں قیادت کے منصب تک پہنچنا کسی بھی اقلیتی پس منظر کے حامل فرد کے لیے غیر معمولی چیلنج سے کم نہیں۔ ایسے ماحول میں کراچی سے تعلق رکھنے والی سنبل صدیقی کا تیسری بار میئر منتخب ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ محض شناخت یا پس منظر نہیں بلکہ کارکردگی، وژن اور عوامی اعتماد ہی اصل سیاسی سرمایہ ہوتا ہے۔ سنبل صدیقی نہ صرف ایک کامیاب وکیل ہیں بلکہ ایک ایسی سیاستدان کے طور پر ابھری ہیں جنہوں نے کمیونٹی کی سطح پر پالیسی سازی، سماجی انصاف، رہائش، تعلیم اور شہری حقوق کے موضوعات پر مسلسل اور مؤثر آواز بلند کی۔ ان کی سیاست کا محور نعروں کے بجائے عملی اصلاحات اور ادارہ جاتی بہتری رہا ہے، جو کسی بھی بالغ جمہوریت میں قیادت کی اصل پہچان سمجھی جاتی ہے۔
سنبل صدیقی کا سیاسی سفر 2017 میں کیمبرج سٹی کونسل سے شروع ہوا، جہاں انہوں نے بتدریج اپنی اہلیت اور سیاسی فہم کو منوایا۔ 2020 سے 2024 کے درمیان دو مرتبہ میئر منتخب ہونا اس اعتماد کا ثبوت تھا جو شہریوں نے ان کی قیادت پر کیا۔ اب 2026 اور 2027 کے لیے تیسری بار اس منصب پر فائز ہونا اس تسلسل کی علامت ہے جو کسی بھی شہر کی انتظامی اور سیاسی استحکام کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ یہ تسلسل اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ سنبل صدیقی کی قیادت وقتی مقبولیت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی وژن اور مستقل کارکردگی کی مرہونِ منت ہے۔ اسی انتخاب کا دوسرا اہم پہلو بورے والا سے تعلق رکھنے والے برہان عظیم کا کیمبرج کا کم عمر ترین ڈپٹی میئر منتخب ہونا ہے۔ نوجوان قیادت کا ابھرنا جدید جمہوری معاشروں کی ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے، جہاں بدلتی ہوئی سماجی و معاشی ترجیحات کو سمجھنے کے لیے نئی نسل کی شمولیت ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔ برہان عظیم کی کامیابی اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ امریکی سیاست میں اب عمر، نسل یا نسلی پس منظر رکاوٹ نہیں رہے بلکہ صلاحیت، وژن اور کمیونٹی سے جڑت ہی اصل معیار ہے۔ ایک پاکستانی مسلمان نوجوان کا اس سطح پر پہنچنا نہ صرف تارکین ِ وطن کے حوصلے بلند کرتا ہے بلکہ ان نوجوانوں کے لیے بھی مثال بن جاتا ہے جو سیاست کو محض طاقتور طبقات کی جاگیر سمجھتے ہیں۔ یہ انتخاب ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو امریکی معاشرے میں اقلیتوں کی تدریجی مگر مضبوط شمولیت کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ امریکا خود کو کثیرالثقافتی معاشرہ قرار دیتا ہے، لیکن عملی سیاست میں اقلیتوں کو مرکزی دھارے تک پہنچنے کے لیے طویل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ سنبل صدیقی اور برہان عظیم کی کامیابی اس جدوجہد کے ثمرات کی ایک جھلک ہے، جو اس بات کو واضح کرتی ہے کہ جمہوری نظام میں مستقل مزاجی، کمیونٹی کی خدمت اور ادارہ جاتی سیاست کے ذریعے بڑی تبدیلیاں ممکن ہیں۔
پاکستانی تناظر میں یہ خبر ایک خوش آئند پیغام بھی رکھتی ہے۔ ایک ایسا ملک جو اکثر سیاسی عدم استحکام، نوجوانوں کی مایوسی اور برین ڈرین کے حوالے سے زیر ِ بحث رہتا ہے، وہاں سے تعلق رکھنے والے افراد کا عالمی سطح پر قیادت کے مناصب تک پہنچنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں صلاحیتوں کی کمی نہیں بلکہ مواقع کی منصفانہ تقسیم کا فقدان ہے۔ سنبل صدیقی اور برہان عظیم کی کامیابی دراصل اس سوال کو بھی جنم دیتی ہے کہ اگر یہی شفافیت، ادارہ جاتی استحکام اور میرٹ کا نظام پاکستان میں بھی میسر ہو تو کتنے ہی نوجوان اور خواتین مقامی و قومی سطح پر مؤثر قیادت فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ امر بھی قابل ِ غور ہے کہ سنبل صدیقی کا تعلق قانون کے شعبے سے ہے۔ دنیا بھر میں دیکھا گیا ہے کہ وکلا اور قانونی ماہرین جب سیاست میں آتے ہیں تو قانون سازی، شہری حقوق اور آئینی معاملات پر نسبتاً گہری سمجھ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی قیادت میں شہری پالیسیوں میں توازن، شفافیت اور قانونی مضبوطی کا عنصر نمایاں رہا ہے۔ اس کے برعکس برہان عظیم کی نوجوانی اور جدید تعلیم ایک ایسے سیاسی مزاج کی نمائندگی کرتی ہے جو ٹیکنالوجی، ماحولیاتی چیلنجز اور سماجی شمولیت جیسے جدید مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ انتخاب محض کیمبرج شہر تک محدود نہیں بلکہ عالمی پاکستانی ڈائسپورا کے لیے ایک علامتی کامیابی ہے۔ یہ اس بیانیے کو مضبوط کرتا ہے کہ پاکستانی شناخت کسی ایک جغرافیے یا سیاسی نظام تک محدود نہیں بلکہ جہاں بھی مواقع اور انصاف پر مبنی نظام موجود ہو، وہاں یہ شناخت مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس سے اسلاموفوبیا، امیگریشن کے حوالے سے خدشات اور اقلیتوں کے خلاف تعصبات کے بیانیے کو بھی ایک خاموش مگر مضبوط جواب ملتا ہے، کیونکہ عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب ہونا کسی بھی معاشرے میں قبولیت کی سب سے بڑی سند سمجھا جاتا ہے۔ کیمبرج میں سنبل صدیقی اور برہان عظیم کی کامیابی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سیاست محض اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ سماجی خدمت، ادارہ سازی اور عوامی اعتماد کا عمل ہے۔ یہ انتخاب ثابت کرتا ہے کہ جب سیاست میں مقصدیت، دیانت اور وژن شامل ہو تو نسلی، مذہبی یا ثقافتی سرحدیں اپنی معنویت کھو دیتی ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں اور خواتین کے لیے یہ واقعہ ایک آئینہ بھی ہے اور ایک راستہ بھی، جو بتاتا ہے کہ عالمی سطح پر قیادت کے دروازے بند نہیں، شرط صرف یہ ہے کہ جدوجہد مستقل ہو، کردار مضبوط ہو اور خدمت کو سیاست پر فوقیت دی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: برہان عظیم کی کامیابی منتخب ہونا نہیں بلکہ سیاست میں ہیں بلکہ کرتا ہے کسی بھی کے لیے اس بات
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔