سندھ بلڈنگ، لیاقت آباد کی تنگ گلیوں میں اُوپر اُٹھتی عمارتیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
افسران کی ملی بھگت سے تعمیراتی مافیا کا کھلا کھیل ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی ملوث
تنگ گلیوں میں پلاٹ 1/178، 1/662پر غیرقانونی تعمیرات، رہائشی خطرے میں
ضلع وسطی کے معروف اور گنجان آباد علاقے لیاقت آباد کی تنگ گلیاں اب تعمیراتی مافیا کی جارحیت کا نشانہ بنتی جا رہی ہیں۔مختلف علاقوں میں زمینی قوانین اور سندھ بلڈنگ کنٹرول قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلند و بالا عمارتیں کھڑی کی جارہی ہیں، جنہیں علاقہ مکین "خطرے کے مینار” قرار دے رہے ہیں۔رہائشیوں کا الزام ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی عمران رضوی تعمیراتی مافیا کے ساتھ ملی بھگت میں ملوث ہیں۔ غیر قانونی تعمیرات کی شکایات کے باوجودکوئی کارروائی نہیں ہو رہی، جبکہ نوٹس جاری کرنے کے بعد بھی تعمیراتی کام بلا روک ٹوک جاری ہے ۔لیاقت آباد نمبر 1پلاٹ نمبر 178اور 662پر خلاف ضابطہ تعمیرات جاری ہیں ،ایک مقامی رہائشی رضا کا کہنا ہے ،”یہ عمارتیں نہ صرف ہوا اور روشنی کا راستہ روک رہی ہیں بلکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فائر بریگیڈ یا ایمبولینس کا گلی میں داخلہ ناممکن ہے ۔سندھ بلڈنگ کنٹرول والوں کو بلا کر دکھایا، پر کام جاری رہا۔”اتھارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق عمران رضوی پرکئی دفعہ غیر قانونی تعمیرات کو نظر انداز کرنے اور مخصوص کنسٹرکشن کمپنیوں کوتحفظ فراہم کرنے کے شبہات ظاہر کیے گئے ہیں۔سندھ ہائیکورٹ میں بھی ایسی کئی عمارتوں کے خلاف مقدموں کی سماعت جاری ہے ، جن میں ایس بی سی اے کے افسران کی ملی بھگت کو عدالت میں اُجاگر کیا گیا ہے ۔جرأت سروے ٹیم کی جانب سے رابطہ کرنے پرسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان نے اس بارے میں کوئی واضح موقف دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ "تحقیقات جاری ہیں”، جبکہ عمران رضوی سے براہ راست تبصرہ حاصل نہیں ہو سکا۔ علاقے کے رہائشی اب سول سوسائٹی اور عدلیہ سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں،تاکہ نہ صرف غیرقانونی تعمیرات روکی جائیں بلکہ ان تعمیرات میں ملوث افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سندھ بلڈنگ کنٹرول عمران رضوی
پڑھیں:
سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
فائل فوٹوسندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔
خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔
تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔