افسران کی ملی بھگت سے تعمیراتی مافیا کا کھلا کھیل ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی ملوث
تنگ گلیوں میں پلاٹ 1/178، 1/662پر غیرقانونی تعمیرات، رہائشی خطرے میں

ضلع وسطی کے معروف اور گنجان آباد علاقے لیاقت آباد کی تنگ گلیاں اب تعمیراتی مافیا کی جارحیت کا نشانہ بنتی جا رہی ہیں۔مختلف علاقوں میں زمینی قوانین اور سندھ بلڈنگ کنٹرول قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلند و بالا عمارتیں کھڑی کی جارہی ہیں، جنہیں علاقہ مکین "خطرے کے مینار” قرار دے رہے ہیں۔رہائشیوں کا الزام ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی عمران رضوی تعمیراتی مافیا کے ساتھ ملی بھگت میں ملوث ہیں۔ غیر قانونی تعمیرات کی شکایات کے باوجودکوئی کارروائی نہیں ہو رہی، جبکہ نوٹس جاری کرنے کے بعد بھی تعمیراتی کام بلا روک ٹوک جاری ہے ۔لیاقت آباد نمبر 1پلاٹ نمبر 178اور 662پر خلاف ضابطہ تعمیرات جاری ہیں ،ایک مقامی رہائشی رضا کا کہنا ہے ،”یہ عمارتیں نہ صرف ہوا اور روشنی کا راستہ روک رہی ہیں بلکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فائر بریگیڈ یا ایمبولینس کا گلی میں داخلہ ناممکن ہے ۔سندھ بلڈنگ کنٹرول والوں کو بلا کر دکھایا، پر کام جاری رہا۔”اتھارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق عمران رضوی پرکئی دفعہ غیر قانونی تعمیرات کو نظر انداز کرنے اور مخصوص کنسٹرکشن کمپنیوں کوتحفظ فراہم کرنے کے شبہات ظاہر کیے گئے ہیں۔سندھ ہائیکورٹ میں بھی ایسی کئی عمارتوں کے خلاف مقدموں کی سماعت جاری ہے ، جن میں ایس بی سی اے کے افسران کی ملی بھگت کو عدالت میں اُجاگر کیا گیا ہے ۔جرأت سروے ٹیم کی جانب سے رابطہ کرنے پرسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان نے اس بارے میں کوئی واضح موقف دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ "تحقیقات جاری ہیں”، جبکہ عمران رضوی سے براہ راست تبصرہ حاصل نہیں ہو سکا۔ علاقے کے رہائشی اب سول سوسائٹی اور عدلیہ سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں،تاکہ نہ صرف غیرقانونی تعمیرات روکی جائیں بلکہ ان تعمیرات میں ملوث افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سندھ بلڈنگ کنٹرول عمران رضوی

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن