ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا
گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب
ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او سمیت 6 اہل کار اور ایک راہگیر شہید ہوگیا۔ دوسرے واقعے میں 3 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ خیبر پختونخوا میں ٹانک کے علاقے گومل میں پولیس کی اے پی سی (بکتر بند گاڑی) پر آئی ڈی بم حملہ کیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ دھماکا ٹانک کے علاقے کوٹ ولی سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔ دھماکے کے نتیجے میں پولیس کی بکتربند گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہل کار شہید ہو گئے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں جائے وقوع کی جانب روانہ کی گئیں، جہاں سے لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔بکتر بند گاڑی پر حملے میں شہید ہونے والوں میں اسحاق احمد خان (ایس ایچ او تھانہ گومل)، اے ایس آئی شیر اسلم خان، ڈرائیور عبدالمجید، ارشد علی، حضرت علی اور احسان اللہ ڈرائیورشامل ہیں۔ بعد ازاں حملے میں نشانہ بننے والا ایک راہگیر بھی جانبر نہ ہو سکا، جس کے باعث شہدا کی تعداد 7 ہو گئی۔ دہشت گردی کا نشانہ بننے واہگیر کی شناخت نہیں ہو سکی۔دوسرا واقعہ لکی م روت میں پیش آیا، جہاں تھانہ صدر کی حدود درہ تنگ کے ساتھ آئی ای ڈی بم کا دھماکا ہوا، جس میں تھانہ صدر کے ایس ایچ او رازق خان سمیت 3 پولیس اہل کار زخمی ہو گئے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا۔ اس دوران ڈی پی او لکی مروت چوکیوں کے دورے پر تھے اور اسی راستے سے ڈی پی او نے بھی گزرنا تھا۔یاد رہے کہ لکی مروت میں گزشتہ روز اسی جگہ سے ایک وکیل کو بھی نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔دریں اثنا گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ٹانک پولیس کی بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب کرلی ۔ انہوں نے شہدا کے اہل خانہ اور ساتھیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار بھی کیا ہے ۔اپنے بیان میں گورنر کے پی نے کہا کہ صوبے کے بہادر جوانوں نے عوام کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر شہادت کو گلے سے لگایا ہے ۔ ہم اپنے شہدا پر فخر کرتے ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بکتر بند گاڑی ایس ایچ او میں پولیس پولیس اہل لکی مروت
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔