Nawaiwaqt:
2026-07-24@01:11:12 GMT

بنوں: پولیس چوکی پر فتنۃ الخوارج کا حملہ ناکام بنا دیا گیا

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

بنوں: پولیس چوکی پر فتنۃ الخوارج کا حملہ ناکام بنا دیا گیا

خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں نالہ کاشو پولیس چوکی پر فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے حملے کی بزدلانہ کوشش پولیس نے ناکام بنا دی۔خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں نالہ کاشو پولیس چوکی پر فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے حملہ کیا، تاہم پولیس کی بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کے باعث حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ واقعے میں پولیس کے تمام جوان محفوظ رہے۔پولیس کے مطابق بنوں کے علاقے نالہ کاشو میں واقع پولیس چوکی پر فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشت گردوں نے دو اطراف سے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ دہشت گردوں نے اچانک فائرنگ شروع کی، تاہم چوکی پر تعینات پولیس اہلکاروں نے فوری طور پر مورچہ سنبھال لیا اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پسپا کر دیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کی بھرپور مزاحمت کے باعث دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکے اور فرار ہو گئے۔ حملے کے دوران پولیس کے تمام اہلکار محفوظ رہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بنوں یاسر آفریدی نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں پولیس فورس کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔ان کا کہنا تھا کہ بنوں پولیس علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے ہر وقت چوکس ہے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پولیس چوکی پر

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار