ٹنڈوجام ،جمالی برادری کا نادرجمالی کے قتل کیخلاف پریس کلب کے سامنے احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت)سندھ کے شہر دادو میں پولیس مقابلے میںپولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے نادر جمالی کے قتل کے خلاف جمالی برادری اور سول سوسائٹی نے ٹنڈو جام پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جمالی برادری نے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی اور عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا اس موقع پر لیاقت جمالی، مولا بخش جمالی، شمن جمالی، قربان جمالی، رئیس رفیق ڈاہری، عرفان گوپانگ اور دیگر نے کہا کہ دادو بی سیکشن تھانے کی پولیس نے مقابلے کا ڈھونگ رچا کر نوجوان کو گولیوں کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا اسی طرح سندھ پولیس نے سندھ کے دوسرے شہروں میں کئی بے گناہ افراد کو نادر جمالی کی طرح ناحق قتل کرکے ان کی زندگی کا چراغ بجھا دیا دادو کی سماجی شخصیت نادر جمالی اگر مجرم تھا تو اسے عدالت میں پیش کیا جاتا انصاف کے لیے عدالتیں ہیں لیکن دادو پولیس نے اپنی عدالت لگا کر اور جھوٹا مقابلہ دکھا کر اسے قتل کر دیا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے آزاد عدالتی تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے بصورت دیگر سندھ سمیت پورے ملک میں احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔