حیدرآباد ،ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت اجلاس،اسکولز منصوبوں کا جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) ڈویژنل کمشنر حیدر آباد فیاض حسین عباسی کی زیر صدارت کمشنر ہاؤس میں صوبائی اے ڈی پی اسکیم سندھ میں پبلک اسکولوں کا قیام (05 یونٹس) کے تحت جاری منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر مٹیاری محمد یوسف شیخ، اسسٹنٹ کمشنر ٹنڈو محمد خان، اسسٹنٹ کمشنر ٹنڈوالٰہیار، سپرنٹنڈنگ انجینئرز ایجوکیشن ورکس سرکل I اور II حیدرآباد اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اور اپنے اپنے اضلاع میں قائم پبلک اسکولز کے ڈہانچے و مالی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں مٹیاری، ٹنڈومحمد خان، اور ٹنڈوالہیار میں قائم پبلک اسکولوں کے تکمیل میں سست روی کا جائزہ لیا گیا۔ڈویژنل کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی نے اسکیموں میں غیر معمولی تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ پبلک اسکولز جیسی فلیگ شپ تعلیمی اسکیمیں کیوں تعطل کا شکار ہیں۔ متعلقہ افسران نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹنڈو محمد خان پبلک اسکول میں اکیڈمک بلاک کی تعمیر مکمل ہوچکاہے، تاہم محکمانہ انکوائری اور ہینڈ اوور کے فیصلے نہ ہونے کے باعث عمارت تاحال استعمال میں نہیں آسکی ہے، جس کے نتیجے میں بلاک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ 2018ء سے باؤنڈری وال اور دیگر بلاکس کی حالت جوں کی توں ہے اور انکوائری مکمل ہونے تک ریٹیفیکیشن ممکن نہیں۔کمشنر حیدرآباد فیاض حسین نے ہدایت کی کہ مٹیاری اور ٹنڈوالٰہیار کے پبلک اسکولز کو ترجیحی بنیادوں پر فعال کیا جائے گا جبکہ ٹنڈو محمد خان کے کیس میں جاری ڈپارٹمنٹل انکوائری کے جلد فیصلے کے بعد فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ جو انفرااسٹرکچر موجود ہے اسے فوری طور پر فعال کیا جائے تاکہ مزید نقصان سے بچایا جا سکے اور فنانس ڈپارٹمنٹ کو انکوائری کی تکمیل کے بعد فوری طور پر فنڈز کے لیے تحریری طور پر رجوع کیا جائے۔
قاضی احمد ،سڑک حادثہ4افراد زخمی
قاضی احمد( نمائندہ جسارت )قاضی احمد نواب شاہ روڈ پر واقع جوناموری اسٹاپ پرشدید دھند کے باعث جانوروں سے بھرے ٹرک اور تیزرفتار کار میں آمنے سامنے سے تصادم ہوگیا، تصادم کے نتیجے میں کار مکمل طورپرتباہ ہوگئی جبکہ ٹرک الٹ گیا نتیجے میں 4 افراد زخمی اور ایک جانور ہلاک ہوگیا۔ زخمیوں کو تحصیل ہیڈ کواٹر اسپتال قاضی احمد منتقل کر دیا گیاہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔