دھرندھر میں فلمی لیاری کہاں بنا؟ پاکستانی مناظر کہاں فلمبند ہوئے؟ جانیے
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
رنویر سنگھ اور اکشے کھنہ کی بلاک بسٹر اسپائی تھرلر فلم دھرندھر نہ صرف اپنی طاقتور کہانی، مکالموں اور اداکاری کے باعث سرخیوں میں ہے بلکہ اس کی شوٹنگ لوکیشنز بھی شائقین کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی تھیں۔
خاص طور پر فلم میں دکھایا گیا کراچی اور لیاری جس پر ناظرین بار بار سوال کر رہے ہیں کہ آخر یہ مناظر حقیقت میں کہاں فلمائے گئے؟
ہدایت کار آدتیہ دھر کی اس میگا فلم نے صرف 35 دنوں میں دنیا بھر سے 1,233 کروڑ روپے کا بزنس کر کے باکس آفس پر تہلکہ مچا دیا حالانکہ خلیجی ممالک میں اس فلم پر پابندی لگی ہوئی ہے۔
اس کامیابی کے پیچھے نہ صرف کہانی بلکہ فلم کی انتہائی سوچ سمجھ کر منتخب کی گئی لوکیشنز کا بھی بڑا کردار ہے۔
فلم کا آغاز بنکاک، تھائی لینڈ سے ہوا جہاں جولائی 2024 میں شوٹنگ شروع کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق بنکاک کو پاکستان کے شہری علاقوں کی عکاسی کے لیے منتخب کیا گیا، جہاں سرویلنس اور ہائی اوکٹین چیز سیکوئنس فلمائے گئے۔
یہاں سیٹس کو اس مہارت سے ڈیزائن کیا گیا کہ وہ پاکستانی علاقوں سے مشابہ نظر آئیں، تاکہ کہانی کا سسپنس برقرار رہے۔
ناظرین کو چونکا دینے والا انکشاف یہ ہے کہ فلم میں دکھایا گیا لیاری اور کراچی کا ساحلی ماحول دراصل ممبئی کے مادھ آئی لینڈ میں تخلیق کیا گیا۔
تنگ گلیاں، عمارتوں کی ساخت اور کیمرہ اینگلز نے لیاری کا ایسا تاثر دیا کہ دیکھنے والے حقیقت اور فلم میں فرق نہ کر سکے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں رنویر سنگھ کا مشہور ڈائیلاگ ’ اگر تم لوگوں کے پٹاخے ختم ہو گئے ہوں تو میں دھماکے شروع کروں ‘ فلمایا گیا۔
فلم کے کئی اہم اندرونی مناظر فلمستان اسٹوڈیوز میں فروری 2025 کے دوران شوٹ کیے گئے، جو فلم کا مرکزی پروڈکشن بیس رہا۔
ایکشن اور ٹرانزیشن سینز کو حقیقت سے قریب رکھنے کے لیے ڈومبیولی کے منکولو برج کو بغیر زیادہ تبدیلی کے استعمال کیا گیا جہاں انڈسٹریل ماحول نے چیز سیکوئنس کو مزید جان دار بنا دیا۔
پنجاب کے شہر امرتسر میں گولڈن ٹیمپل کے اطراف جذباتی مناظر نہایت احتیاط اور احترام کے ساتھ فلمائے گئے، جبکہ لدھیانہ کے کھیڑا گاؤں کو پاکستان کے ایک دیہی علاقے میں تبدیل کر کے یادوں اور جذبات سے بھرپور سین عکس بند کیے گئے۔
فلم کا سب سے مشکل مرحلہ لداخ میں آیا، جہاں اگست 2025 میں سخت موسم اور بلند پہاڑی علاقوں کے باوجود شوٹنگ مکمل کی گئی۔ پتھر صاحب جیسے ویران اور سرد مقامات نے فلم کی کہانی میں تنہائی، جدوجہد اور خطرے کے احساس کو مزید گہرا کر دیا۔
دلچسپ طور پر فلم کے سنجیدہ اور سنسنی خیز ماحول کے بیچ رنگ اور توانائی کا تڑکا لگانے والے گانے کو پارلے کی گولڈن ٹوبیکو فیکٹری میں فلمایا گیا جہاں شاندار رقص کے مناظر نے ناظرین کو ایک بالکل مختلف تجربہ دیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کیا گیا
پڑھیں:
ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں 23ویں کامن ویلتھ گیمز کا آغاز شاندار اور رنگا رنگ افتتاحی تقریب سے ہوگیا، جہاں اولمپک چیمپئن ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے نے قومی پرچم کے ساتھ باوقار انداز میں مارچ پاسٹ کیا۔ پاکستان ایونٹ میں 6 مختلف کھیلوں میں حصہ لے گا اور تمغوں کی سب سے زیادہ امید ارشد ندیم سے وابستہ ہے۔
اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں 23ویں کامن ویلتھ گیمز کا آغاز جمعرات کو ہائیڈرو ایرینا میں ایک شاندار، رنگا رنگ اور منفرد افتتاحی تقریب سے ہوا، جس نے اسکاٹ لینڈ کی بھرپور ثقافتی روایات کو جدید انداز میں پیش کرتے ہوئے گیمز کی تاریخ کی یادگار افتتاحی تقریبات میں اپنا مقام بنا لیا۔
یہ بھی پڑھیے کامن ویلتھ گیمز میں ارشد ندیم ایک بار پھر تاریخ دہرانے کے لیے پرعزم
افتتاحی تقریب میں سینکڑوں کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین نے شرکت کی۔ موسیقی، دلکش روشنیوں، جدید بصری اثرات اور فنکارانہ پرفارمنسز نے پورے ایرینا کو جشن کے رنگوں میں رنگ دیا، جبکہ دولتِ مشترکہ کے مختلف رکن ممالک سے آنے والے کھلاڑیوں کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔
27 رکنی پاکستانی دستہ اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور عالمی ریکارڈ ہولڈر جیولن تھروور ارشد ندیم کی قیادت میں میدان میں داخل ہوا۔ مارچ پاسٹ کے دوران ارشد ندیم نے قومی پرچم تھام رکھا تھا۔ اس بار روایت سے ہٹ کر کھلاڑیوں کی پریڈ انگریزی حروفِ تہجی کے بجائے براعظموں کی بنیاد پر ترتیب دی گئی، جس کے تحت سب سے پہلے افریقی ممالک کے دستے اور اس کے بعد ایشیائی ممالک کے کھلاڑی میدان میں آئے۔
پاکستان کامن ویلتھ گیمز میں 6 مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گا، جن میں ایتھلیٹکس، باکسنگ، جمناسٹکس، جوڈو، لان بولز اور تیراکی شامل ہیں۔
قومی دستے کی سب سے بڑی امید ارشد ندیم ہیں، جنہوں نے اپنی غیرمعمولی کارکردگی اور عالمی سطح پر نمایاں کامیابیوں کے باعث ایک بار پھر پاکستان کے لیے تمغہ جیتنے کی توقعات کو مضبوط کر دیا ہے۔
ایک ہفتے سے زائد جاری رہنے والے ان کھیلوں میں دولتِ مشترکہ کے بہترین ایتھلیٹس مختلف مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے، جبکہ پاکستان خصوصاً ایتھلیٹکس اور باکسنگ میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے اپنے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
23ویں کامن ویلتھ گیمز اسکاٹ لینڈ اولمپک چیمپئن ارشد ندیم کھیل گلاسگو