جامشورو ، دادو پولیس کے خلاف شہریوں کی احتجاجی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260113-08-13
جام شورو(نمائندہ جسارت)جامشورو میں دادو پولیس کے خلاف شہریوں نے شہر کے شاہی بازار سے ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی۔ احتجاجی ر یلی کی قیادت رحیم جمالی،ممتاز جمالی،محمد حسن جمالی،شبیر جمالی،عبدالغفور جمالی، اعجاز جمالی، گورنر جمالی، سیاسی و سماجی رہنما، ایس ٹی پی رہنما ساغر عالمانی، جے یو آئی کے رہنما مولانا انور بلیدی، سماجی رہنما ذوالفقار مگسی، دکاندار رہنما اصغر ناریجو مرتضیٰ کررہے تھے۔ ریلی کے شر کاء نے قاتل دادو پو لیس اہلکاروں کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے شہر کا گشت کرنے کے بعد جامشورو ڈسٹرکٹ پریس کلب کے سا منے اوور ہیڈ برج پل کے نیچے دھرنا دیا۔ اِس موقع پر اْستاد رہنما حق نواز برہمانی،، پیپلز پارٹی شہید بھٹو کے رہنما سید اَسد شاہ اور دیگر نے کہا ہے کہ دادو پو لیس نے شہر کی بہترین سماجی شخصیت، غریب عوام کے حمایتی نادر جمالی کو جعلی مقابلے میں قتل کر دیا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھایہ جھوٹ پر مبنی ہے کہ یہ پولیس مقابلہ تھا۔ جبکہ اس انکاؤنٹر میں چھوٹے،بڑے پولیس اَفسران سبھی ملوث ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خلاف جوڈ یشل انکوا ئری کرائی جائے اور ان کے خلاف نادر جمالی کے قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔