بانی سے ملنا چاہتا ہوں کسی نے ایک نہیں سنی، دیوار سے لگایا جائے تو احتجاج کا آپشن ہی بچتا ہے: سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
کراچی (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ میں اپنے لیڈر عمران خان سے ملنا چاہتا ہوں لیکن کسی نے نہیں سنی، جب دیوار سے لگایا جاتا ہے تو پھر احتجاج کا آپشن ہی بچتا ہے۔سندھ ہائیکورٹ میں تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے، میرا لیڈر جیل میں ہے اور وہ پاکستان کا مقبول ترین لیڈر ہے، چیف جسٹس بھی ملاقات کو تیار نہیں اور نہ لیٹر کا جواب دیا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ احتجاجی سیاست میں ہم تب جاتے ہیں جب کوئی راستہ نہیں بچتا جبکہ آئین و قانون اسکی اجازت دیتا ہے۔ وزیر اعلیٰ بنا تو وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیف جسٹس کو خط لکھا۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں حکم دیتے ہیں کہ میں عمران خان سے مل سکتا ہوں، تین ججوں نے یہ حکم دیا لیکن اس حکم کو ردی کی ٹوکری میں ایک جیل سپرنٹنڈنٹ پھینک دیتا ہے۔ یہ میری بی عزتی نہیں بلکہ عدلیہ اور وکلاء پیشے کی بے توقیری ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ آئین و قانون کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، اداروں کا نہیں پورے پاکستان کا نقصان ہو رہا ہے، انصاف برائے فروخت نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے پی آئی اے کو بھی نیلام کر دیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ بار کے تمام وکلاء کا مشکور ہوں اور مجھے خوشی ہے میں وکلاء کے سامنے اپنی بات رکھ رہا ہوں، سندھ کی عوام بہادر، جرأت مند اور دلیر ہے۔وزیر اعلیٰ نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھیوں نے اپنے دارالخلافہ میں سب قوموں کو جگہ دی ہے، سندھیوں کا دل بڑا ہے جو مہمانوں کو عزت دیتے ہیں لیکن سندھ کی حکومت نے مہمانوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا اور اجرک ٹوپی کے عزت نہیں کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیر اعلی نے کہا کہ
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔