ملک کے تین صوبے شدید دھند کی لپیٹ میں، متعدد موٹرویز بند
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ابراہیم قریشی: ملک کے تین صوبوں پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ میں شدید دھند چھا جانے کے باعث نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہو گیا ہے جبکہ حدِ نگاہ انتہائی کم ہونے پر مختلف موٹرویز کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
موٹروے پولیس کے مطابق شدید دھند کے باعث موٹروے ایم ون (M-1) کو پشاور سے برہان انٹرچینج تک بند کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح لاہور – اسلام آباد موٹروے ایم ٹو (M-2) کو بھی مکمل طور پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا
دھند کے باعث لاہور – ملتان موٹروے ایم تھری (M-3) فیض پور سے درخانہ تک بند ہے، جبکہ موٹروے ایم فور (M-4) پنڈی بھٹیاں سے شیر شاہ تک ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔
اسی طرح لاہور – سیالکوٹ موٹروے ایم الیون (M-11) کو بھی شدید دھند کے باعث بند رکھا گیا ہے، جبکہ موٹروے ایم 14 عیسیٰ خیل سے دریائے سندھ تک بند کر دی گئی ہے۔
موٹروے پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سفر سے قبل موٹروے ہیلپ لائن یا سرکاری ذرائع سے سڑکوں کی صورتحال سے آگاہی حاصل کریں۔ ترجمان کے مطابق دھند کے دوران تیز رفتاری اور غیر محتاط ڈرائیونگ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
سہیل آفریدی نے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی؛ عطاء اللہ تارڑ
دوسری جانب محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں کے دوران دھند کی شدت میں کمی کا امکان کم ہے.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: موٹروے ایم کے باعث دھند کے گیا ہے
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔