نیو یارک: وفاقی حکام کی جانب سے سٹی کونسل ملازم کی گرفتاری، میئر ظہران ممدانی کا شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
نیو یارک کے میئر ظہران ممدانی نے وفاقی امیگریشن حکام کی جانب سے نیو یارک سٹی کونسل کے ایک ملازم کی گرفتاری پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
میئر کے مطابق مذکورہ ملازم کو ناساؤ کاؤنٹی میں ایک معمول کے امیگریشن اپائنٹمنٹ کے دوران حراست میں لیا گیا، جسے انہوں نے جمہوریت، شہر اور امریکی اقدار پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے: ظہران ممدانی کا بڑا اقدام، نیویارک میں یونیورسل چائلڈ کیئر سہولت فراہم کرنے کا اعلان
میئر ممدانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس اقدام سے ‘سخت مشتعل’ ہیں اور مطالبہ کیا کہ سٹی کونسل کے ملازم کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کی خود نگرانی کریں گے اور کسی بھی ناانصافی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا میں امیگریشن پالیسیوں اور وفاقی حکام کے اختیارات پر پہلے ہی شدید بحث جاری ہے۔ حالیہ مہینوں میں شہری حکومتوں اور وفاقی اداروں کے درمیان امیگریشن کے معاملات پر تناؤ بڑھا ہے، خصوصاً ان شہروں میں جو خود کو ‘سینکچوئری سٹیز’ قرار دیتے ہیں اور غیر قانونی تارکین وطن کے تحفظ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔
I am outraged to hear a New York City Council employee was detained in Nassau County by federal immigration officials at a routine immigration appointment.
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) January 12, 2026
نیو یارک سٹی حکام کا مؤقف ہے کہ معمول کے امیگریشن معاملات میں اس طرح کی گرفتاریاں خوف و ہراس پھیلانے کے مترادف ہیں اور اس سے شہریوں کا نظام پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ دوسری جانب وفاقی امیگریشن ادارے اپنے اقدامات کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہیں۔
واقعے کے بعد شہری حقوق کی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور گرفتار شخص کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ معاملہ اب سیاسی اور قانونی دونوں سطحوں پر ایک نئی بحث کو جنم دے چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نیو یارک
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔