امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے، کیونکہ ملک بھر میں جاری احتجاجات دن بدن شدت اختیار کر رہے ہیں اور حالات “پرتشدد” ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

امریکی سفارتخانے کی وارننگ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں احتجاجات کے باعث گرفتاریاں، زخمی ہونے، سیکیورٹی اقدامات، سڑکیں بند، ٹرانسپورٹ معطل اور انٹرنیٹ کی بندش جیسے حالات ہیں، جن سے امریکی شہریوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔

سفارتخانہ نے مشورہ دیا کہ امریکی شہری اگر محفوظ ہو سکے تو زمینی راستوں سے آرمینیا یا ترکی کے راستے ایران چھوڑ دیں۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ بندش کے پیشِ نظر رابطے کے متبادل انتظامات بنائے جائیں۔

مزید پڑھیں

ٹرمپ کا ایران کے اپوزیشن لیڈرز سے رابطوں کا دعویٰ؛ یہ رہنما کون ہیں؟

ٹرمپ کا انجام فرعون، نمرود اور رضا شاہ جیسا ہوگا، ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کا سخت پیغام

ایران کے خلاف بڑا فیصلہ قریب؟ صدر ٹرمپ نے فوجی آپشن کا عندیہ دے دیا

دوھری شہریت رکھنے والے امریکی ایرانی شہریوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ ایران دوہری شہریت تسلیم نہیں کرتا، اس لیے ان کو اپنے ایرانی پاسپورٹ سے ہی ایران چھوڑنا چاہیے۔

سفارتخانے نے مزید کہا ہے کہ وہ لوگ جو اب بھی ایران میں ہیں، احتجاجات سے دور رہیں، عوامی اجتماعات میں شامل نہ ہوں اور اپنے آپ کو محفوظ مقامات پر رکھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گیا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار