9 مئی عسکری ٹاور حملہ کیس : خدیجہ شاہ اشتہاری قرار
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی عسکری ٹاور حملہ کیس می خدیجہ شاہ سمیت 4 ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق 9 مئی کو عسکری ٹاور پر حملے کے کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت نے غیر حاضر ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے خدیجہ شاہ سمیت چار ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمنسٹریٹو جج منظر علی گل نے کیس کی سماعت کی، جس کے دوران عدالت نے خدیجہ شاہ، حمزہ سہیل، عثمان اسلم اور احمد مرسلین کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے، یہ کارروائی ملزمان کی مسلسل عدم حاضری پر عمل میں لائی گئی۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان عسکری ٹاور حملہ کیس میں مرکزی ٹرائل کے لیے مسلسل پیش نہیں ہو رہے تھے۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ خدیجہ شاہ 9 مئی کے ایک اور مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد روپوش ہو چکی ہیں، جبکہ دیگر ملزمان بھی گرفتاری کے خوف سے عدالت میں پیش ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔
عدالت نے قانون کے مطابق مزید کارروائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: عسکری ٹاور خدیجہ شاہ عدالت نے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔