سمگلنگ اور غیرقانونی تجارت روکنے کیلئے ڈیجیٹل انفورسمنٹ سٹیشن کے قیام کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ویب ڈیسک) ایف بی آر نے سمگلنگ اور غیرقانونی تجارت روکنے کے لیے ڈیجیٹل انفورسمنٹ سٹیشن کے قیام کا فیصلہ کر لیا۔
ذرائع ایف بی آر کے مطابق ڈیجیٹل انفورسمنٹ سٹیشن کو سمگلنگ اور غیرقانونی تجارتی سرگرمیوں کو روکنے کا مکمل اختیار ہو گا، اشیاء کی غیرقانونی تجارت اور سمگلنگ میں ملوث افراد کو گرفت میں لیا جائے گا۔
ایف بی آر کے ذرائع نے مزید بتایا کہ ایف بی آر نے ڈیجیٹل انفورسمنٹ سٹیشن کی قیام کیلئے 10 ارب روپے مانگ لیے، ڈیجیٹل انفورسمنٹ سٹیشن کے قیام سے سمگلنگ اور غیرقانونی تجارت کی روک تھام ممکن ہو گی ،موجودہ چیک پوسٹوں کو بھی ڈیجیٹل انفورسمنٹ سٹیشن میں تبدیل کیا جائے گا۔
ڈیجیٹل انفورسمنٹ سٹیشن کے سٹاف کیلئے رولز، آپریشنز اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا، خالی آسامیوں پر آرمڈ فورسز کے ریٹائرڈ آفیسرز اور سپاہیوں کو کنٹریکٹر پر بھرتی کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سمگلنگ اور غیرقانونی تجارت جائے گا ایف بی
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔