جعلی آرڈیننس لاکر صدر زرداری کے ساتھ باریک واردات ڈالی گئی، پلوشہ خان
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
پاکستان پیپلز پارٹ کی مرکزی رہنما سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ جعلی دوائیوں اور جعلی ڈگریوں کا سنا تھا لیکن اب جعلی آرڈینس بھی آنے لگے ہیں، جعلی آرڈیننس لاکر صدر زرداری کے ساتھ باریک واردات ڈالی گئی۔
پیپلز سیکریٹریٹ میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما چودھری منظور احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ کل ایک آرڈینینس بغیر صدر کے دستخط کے جاری ہوا، صدر زرداری کو بھی دھوکا دیا گیا اور ان کے ساتھ باریک واردات ڈالی گئی، صدر کے نام سے آرڈینینس جاری ہوا انہیں خبر ہی نہیں، حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ یہ غلطی سے ہو گیا۔
پلوشہ خان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی یہی مشورہ دے گی کہ ہوش کے ناخن لیں، پاکستان ایسی غلطیاں افورڈ نہیں کر سکتا، جو بھی ایسی غلطی کر رہا ان کو اپنی صفوں سے باہر نکالیں اور جعلی آرڈینینس کی فیکٹری کو بند کیا جائے۔ حکومت نے غلطی تسلیم کرکے آرڈینینس واپس لیا لیکن ایسی غلطیاں حکومتی اتحاد کے لئے نقصان دہ ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل شپنگ کارپوریشن کی نجکاری نہیں ہونے دیں گے، سمجھ نہیں آتی انکو کون مشورے دیتا ہے، نجکاری پر پیپلز پارٹی کا واضح موقف ہے، پیپلز پارٹی اپنی آواز بلند کرے گی اور قوم کے سامنے حقائق لائے گی۔
پی ٹی آئی کے کراچی میں سیاسی پاور شو پر تبصرہ کرتے ہوئے پلوشہ خان نے کہا کہ باغ جناح بہت بڑا پارک ہے جسے بھرنا پی ٹی آئی کے لئے مشکل تھا، پی ٹی آئی نے اسی وجہ سے سڑک پر جلسہ کیا۔
چوہدری منظور احمد نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں عوام کے ساتھ ڈاکہ مارا گیا ہے، بلیوایریا میں پی آئی اے کے دفتر کی بیس کروڑ روپے قیمت لگائی گئی اسی سے اندازہ کرلیں، پی آئی اے ایک سو پینتیس ارب کی دی گئی اسکی جائدادیں ہی صرف دو سو ارب روپے کی ہیں، یہ چیزیں ہم کسی صورت نہیں کرنے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹر پلوشہ خان نجکاری کمیٹی میں بھی ہیں انہوں نے پی آئی اے نجکاری پر کچھ دستاویزات مانگی لیکن نہیں دی گئیں، ہم حکومت کے ساتھ پارلیمنٹ میں ہیں باقی ہر حکومتی کام میں نہیں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پلوشہ خان نے کہا پیپلز پارٹی پی آئی اے نے کہا کہ کے ساتھ
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔