عالمی جریدے ”دی نیشنل انٹرسٹ“ میں شائع ایک مضمون کے مطابق پاکستان کے پاس کھربوں ڈالر مالیت کے غیر استعمال شدہ معدنی وسائل موجود ہیں، جنہیں ملک کی اسٹریٹجک معاشی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ مضمون میں پاکستانی معدنی شعبے میں کی گئی اصلاحات، جدید مائننگ پالیسی اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان عالمی معیار کے مطابق اپنی مائننگ پالیسی کو ہم آہنگ کر رہا ہے اور اہم معدنیات میں ایک اسٹریٹجک مرکز کے طور پر ابھرتا جا رہا ہے۔

دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق اس میں خاص طور پر ریکوڈک منصوبہ نمایاں ہے، جس میں 5.

9 ارب ٹن معدنی ذخائر موجود ہیں اور یہ اربوں ڈالر کی آمدن کے ساتھ ساتھ ہزاروں روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی قیمتی پتھروں کی مالیت تقریباً 450 ارب ڈالر ہے، تاہم موجودہ سالانہ برآمدات صرف 5.8 ملین ڈالر ہیں۔

ملک نے پہلی قومی جیم اسٹون پالیسی متعارف کرائی ہے اور 5 سال کے دوران جیم اسٹون کی برآمدات کو 1 بلین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان لیتھیم، کوبالٹ اور نایاب زمینی عناصر میں عالمی سپلائی چین کا حصہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

معدنی اصلاحات سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق آئندہ 10 سال میں معدنی اور جیم اسٹون سیکٹر کی ترقی سے سالانہ پانچ سے سات بلین ڈالر تک جی ڈی پی میں اضافہ ممکن ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان منرلزانویسٹمنٹ فورم 2026 اپریل میں شیڈول ہے، جس کا مقصد غیرملکی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنا اور ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا ہے۔ جریدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان خود کو عالمی معدنی منڈی میں ایک ذمہ دار اور قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ

سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد ان کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ ڈالر رہ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق