Jasarat News:
2026-06-02@23:13:29 GMT

غنڈے کی اخلاقیات

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260113-03-7

 

احمد حسن

ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب کے دوران اور بعد میں یہ اعلانات کیے تھے کہ وہ امریکا کو عالمی تنازعات سے نکالیں گے، جنگوں کا حصہ نہیں بنیں گے اور ساری توجہ امریکا پر مرکوز کریں گے لیکن ان کا عمل ان کے اعلانات کے بالکل برعکس رہا ہے، انہوں نے امریکا کو عالم تنازعات سے نکالنے کے بجائے انسانیت کی فلاح کے لیے کام کرنے والی 66 عالمی تنظیموں سے امریکا کو نکال لیا ہے، یہ تنظیمیں ماحولیات، امن، جمہوریت جیسے بڑے مقاصد کے لیے کام کر رہی ہیں، وائٹ ہاؤس کے اعلان کے مطابق یہ اقدام امریکا فرسٹ پالیسی کے تحت کیا گیا ہے، یہ ادارے امریکا کے لیے غیر مؤثر، فضول اور نقصان دہ ہیں، یہ تنظیمیں اپنی حدود میں غیر ضروری، ناقص انتظام، فضول خرچی اور کمزور کارکردگی کی حامل ہیں۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ پے در پے ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن سے نئے نئے عالمی تنازعات جنم لے رہے ہیں، وہ ایران میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے مسئلے میں دخل دے رہے ہیں جو خالصتاً ایران کا داخلی مسئلہ ہے، انہوں نے اس سلسلے میں ایران کو بار بار دھمکیاں دی ہیں حتیٰ کہ ایران پر ممکنہ حملے سے متعلق صدر ٹرمپ کو بریفنگ بھی دی گئی ہے، امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ کوئی قدم اٹھانا چاہتے ہیں لیکن ابھی انہوں نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر کہا کہ ایران آزادی چاہتا ہے اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ، امریکا ایران کی مدد کے لیے تیار ہے۔

گرین لینڈ کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا رویہ گلی، محلے کے غنڈوں جیسا ہے، ’’بس میں نے کہہ دیا تو یہ میرا ہے‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو پسند آئے یا نہ آئے گرین لینڈ ہم لے کر رہیں گے۔ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے معاملے کو براہ راست حل کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ آسان طریقے سے حل ہو لیکن اگر نہیں ہوا تو مشکل راستہ اختیار کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے اس جزیرے کی معدنی دولت پر کنٹرول کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیا، معاملے کو براہ راست حل کرنے کا مطلب ہے کہ ہمیں اقوام متحدہ کی اجازت کی ضرورت نہیں، تو اقوام متحدہ کو تو امریکا نے بہت عرصے پہلے ہی لا تعلق کر دیا ہے، لیبیا کو برباد کر دیا گیا اقوام متحدہ سے کب اجازت لی گئی، عراق پر بڑے پیمانے کے تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے کا الزام لگا کر اسے تہس نہس کر دیا گیا، فلسطین اسرائیل جنگ کے دوران ایران پر حملہ کیا گیا اقوام متحدہ سے کب رجوع کیا گیا؟ حتیٰ کہ غزہ پر وحشیانہ اسرائیلی بمباری روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئیں امن قراردادوں کو صرف امریکا نے بار بار ویٹو کیا اور غزہ کو جہنم بنانے کے لیے اسرائیل کی بھرپور مدد کی۔ گرین لینڈ کی پانچ بڑی سیاسی جماعتوں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ہم امریکن ہونا پسند کرتے ہیں نہ ڈینش، ہم گرین لینڈر ہی رہیں گے، فیصلے کا اختیار یہاں کے عوام کے پاس ہے، گرین لینڈ کا مستقبل صرف یہاں کے عوام طے کریں گے لیکن امریکی صدر کا کہنا ہے کہ کسی کو پسند آئے یا نہ آئے ہم گرین لینڈ لے کر رہیں گے، انہوں نے خود کو عالمی قوانین سے ماوراء قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کسی عالمی قانون کی ضرورت نہیں، میں عالمی قوانین کا پابند نہیں مجھے دنیا بھر پر حملے کا اختیار ہے، اگر مجھے کوئی روک سکتا ہے تو وہ میں خود ہوں جو واحد چیز مجھے روک سکتی ہے وہ میری اپنی اخلاقیات اور میرا اپنا دماغ ہے اور میں لوگوں کو تکلیف دینا نہیں چاہتا۔

صدر ٹرمپ جن خیالات اور عزائم کا اظہار کر رہے ہیں اس نے پوری دنیا کے امن پسند مہذب اور شائستہ لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے سب سے طاقتور عہدے دار کے خیالات سے یہ اندیشے بھی جنم لے رہے ہیں کہ کہیں وہ ذہنی عدم توازن کا شکار تو نہیں ہیں، سب سے بڑھ کر تشویش کی بات یہ ہے کہ امریکی عوام کی جانب سے صدر ٹرمپ کے خلاف جو آواز اٹھنی چاہیے تھی وہ ابھی تک سنائی نہیں دی ہے حالانکہ امریکی عوام کا ریکارڈ ہے کہ حکومتوں کی پالیسیاں جو بھی ہوں وہ مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے عزائم کو کوئی شکست دے سکتا ہے تو وہ خود امریکی عوام ہیں، ہو سکتا ہے ٹرمپ کے اقدامات امریکیوں کو اپنے مفاد میں محسوس ہوتے ہوں کیونکہ وینز ویلا پر حملے کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وینز ویلا میں امریکی تیل کمپنیاں 18 ماہ کے اندر کام شروع کر دیں گی۔ آزاد وینزویلا کو امریکا کا توانائی مرکز بنا دیں گے، لیکن امریکی عوام کو سمجھنا چاہیے کہ عالمی قوانین، اقدار، روایات، تہذیب و شائستگی کے خاتمے سے بالآخر سب سے زیادہ نقصان امریکا کو ہی ہوگا ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون‘‘ دنیا بھر میں چلے گا تو امریکی معاشرہ بھی اس کا اثر قبول کرے گا اور ایک دفعہ ایسا ہو گیا تو پھر امریکا میں قانون کی بالادستی ختم ہوتے ہی اس کا اتحاد بھی پارہ پارہ ہو جائے گا، امریکی ریاستیں آپس میں لڑیں گی اور امریکا کے سر سے سپر پاور کا تاج چھن جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے اپنی اخلاقیات کا بھی ذکر کیا ہے، سبحان اللہ! کیا بات ہے ان کی اخلاقیات بھی ہیں ؟ اِدھر قبضہ، اُدھر لوٹ مار، اس کو دھمکی، اس کو تڑیاں، پھر بھی اخلاقیات کا ذکر؟ واضح رہے کہ ایران کو حملے کی دھمکی سے بھی پہلے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وینز ویلا کے رہنما کی گرفتاری کے بعد کیوبا کی حکومت بھی جلد گرنے کے لیے تیار رہے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ میکسیکو کے ساتھ بھی کچھ کرنا پڑے گا، امریکی فوج میکسیکو میں داخل ہو سکتی ہے، روس سے تیل کی خریداری کے معاملے پر امریکی صدر بھارت کو مسلسل دھمکیاں دیتے رہے ہیں، انہوں نے بھارت پر ٹیرف مزید بڑھانے کی پھر دھمکی دی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2027 کے لیے امریکی جنگی بجٹ کو 50 فی صد بڑھا کر ڈیڑھ کھرب ڈالر کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے انہوں نے ’’پریشان کن اور خطرناک وقتوں‘‘ میں قومی سلامتی کے لیے ضروری بتایا ہے، انہوں نے کہا کہ پہلے وہ ایک کھرب ڈالر کا جنگی بجٹ چاہتے تھے لیکن اب عالمی کشیدگی اور بڑھتے خطرات کے پیش نظر فوجی اخراجات میں اضافے کی ضرورت ہے انہوں نے اس رقم سے ایک طاقتور ملٹری ڈریم بنانے کا دعویٰ کیا جو امریکا کو ہر دشمن کے خلاف محفوظ رکھے گا، ٹرمپ نے عالمی کشیدگی اور بڑھتے خطرات کا ذکر کیا ہے، وہ عالمی کشیدگی جو خود ان کی اپنی پیدا کردہ ہے، پھر غنڈہ گلی کا ہو یا عالمی اسے خطرات تو لاحق ہوتے ہی ہیں، جب وہ سب کا جینا حرام کر رہا ہو تو کوئی کچھ بھی قدم اٹھا سکتا ہے، کمزور لوگ، کمزور ملک متحد ہو سکتے ہیں اور جب یہ متحد ہو جائیں تو بڑے سے بڑا غنڈہ بھی ڈھیر ہو جاتا ہے۔

احمد حسن.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ امریکی عوام گرین لینڈ امریکا کو نے کے لیے انہوں نے رہے ہیں سکتا ہے کریں گے کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان