data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کیوبا کے صدر میگل ڈیاز  کینیل نے اپنے ملک کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے ہافانا کے اپنے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق کیوبا کے صدر میگل ڈیاز  کینیل نے یہ ردعمل واشنگٹن کی جانب سے کیوبا کے قریبی اتحادی وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا ہے۔

ڈیاز  کینیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ کیوبا ایک آزاد، خود مختار اور خودمختار ریاست ہے۔ کوئی ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کیریبین جزیرہ وطن کے دفاع کے لیے خون کے آخری قطرے تک تیار ہے۔

اسی تناظر میں کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے ریاستہائے متحدہ امریکا پر مجرمانہ طریقے سے کام کرنے کا الزام لگایا جو عالمی امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کیوبا کسی بھی امریکی مداخلت کے بغیر کسی بھی ایسی پارٹی سے ایندھن درآمد کرنے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے جو اسے برآمد کرنے کی خواہش رکھتی ہو۔

روڈریگز نے سرکاری بیانات میں کہا کہ ان کے ملک کو کسی بھی مارکیٹ یا سپلائرز سے ایندھن درآمد کرنے کا خودمختار حق حاصل ہے جو برآمد کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حق کسی بھی دوسرے ملک کی طرح مطلق ہے اور امریکا کو اس میں مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

کیوبا کے وزیر خارجہ نے ان الزامات کی بھی تردید کی جنہیں انہوں نے بار بار کیے جانے والے دعوے قرار دیا کہ کیوبا دیگر ممالک کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی خدمات کے بدلے مالی معاوضہ یا فوائد حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کے ملک نے کسی بھی ملک کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی خدمات کے بدلے کبھی کوئی مالی یا مادی معاوضہ وصول نہیں کیا۔

یہ بیانات ہافانا کے خلاف ٹرمپ کے لہجے میں تیزی کی عکاسی کر رہے ہیں اور کیوبا اور وینزویلا کے معاملات کے درمیان براہ راست ربط پیدا کرتے ہیں جو کیوبا کے توانائی کے ذرائع اور مالی امداد کو کم کرنے کے مقصد سے بنائی گئی ایک وسیع تر دباؤ کی پالیسی کا حصہ ہے۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کیوبا کے کرنے کا کسی بھی

پڑھیں:

بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔

pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ

— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم