ٹرمپ دھمکیاں: کوئی بات نہیں ہوگی، کوئی ہمیں نہ بتائے کیا کرنا ہے، کیوبا کےصدر کی امریکا کو تنبیہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیوبا کے صدر میگل ڈیاز کینیل نے اپنے ملک کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے ہافانا کے اپنے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق کیوبا کے صدر میگل ڈیاز کینیل نے یہ ردعمل واشنگٹن کی جانب سے کیوبا کے قریبی اتحادی وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا ہے۔
ڈیاز کینیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ کیوبا ایک آزاد، خود مختار اور خودمختار ریاست ہے۔ کوئی ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کیریبین جزیرہ وطن کے دفاع کے لیے خون کے آخری قطرے تک تیار ہے۔
اسی تناظر میں کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے ریاستہائے متحدہ امریکا پر مجرمانہ طریقے سے کام کرنے کا الزام لگایا جو عالمی امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کیوبا کسی بھی امریکی مداخلت کے بغیر کسی بھی ایسی پارٹی سے ایندھن درآمد کرنے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے جو اسے برآمد کرنے کی خواہش رکھتی ہو۔
روڈریگز نے سرکاری بیانات میں کہا کہ ان کے ملک کو کسی بھی مارکیٹ یا سپلائرز سے ایندھن درآمد کرنے کا خودمختار حق حاصل ہے جو برآمد کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حق کسی بھی دوسرے ملک کی طرح مطلق ہے اور امریکا کو اس میں مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
کیوبا کے وزیر خارجہ نے ان الزامات کی بھی تردید کی جنہیں انہوں نے بار بار کیے جانے والے دعوے قرار دیا کہ کیوبا دیگر ممالک کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی خدمات کے بدلے مالی معاوضہ یا فوائد حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کے ملک نے کسی بھی ملک کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی خدمات کے بدلے کبھی کوئی مالی یا مادی معاوضہ وصول نہیں کیا۔
یہ بیانات ہافانا کے خلاف ٹرمپ کے لہجے میں تیزی کی عکاسی کر رہے ہیں اور کیوبا اور وینزویلا کے معاملات کے درمیان براہ راست ربط پیدا کرتے ہیں جو کیوبا کے توانائی کے ذرائع اور مالی امداد کو کم کرنے کے مقصد سے بنائی گئی ایک وسیع تر دباؤ کی پالیسی کا حصہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کیوبا کے کرنے کا کسی بھی
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔