Jasarat News:
2026-07-24@05:12:05 GMT

ایران کا حالیہ بحران

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260113-03-2

 

برادر اسلامی ملک ایران کی کرنسی کی قدر میں غیر معمولی کمی کے بعد مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف عوامی غصہ شدت اختیار کر گیا ہے، جس کی وجہ سے پورے ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، ان احتجاجی مظاہروں کے دباؤ پر ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ محمد رضا فرزین نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا۔ خبر رساں ادارے کے مطابق احتجاجی مظاہرے اصفہان، شیراز اور مشہد سمیت 70 شہروں تک پھیل گئے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ یہ مظاہرے 2022 کے بعد سب سے بڑے قرار دیے جا رہے ہیں، جب 22 سالہ مہسا جینا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد ایران بھر میں کئی ماہ تک احتجاجی لہر جاری رہی تھی۔ جن شہروں میں مظاہرے کیے جارہے ہیں تاریخی طور پر یہ علاقے ایران میں سیاسی تبدیلی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران بھی یہی بازار عوامی تحریک کا مرکز رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی تاجروں نے احتجاجاً کاروبار بند رکھا اور دیگر دکانداروں سے بھی شٹر ڈاؤن کی اپیل کی۔ رپورٹ کے مطابق کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہیں۔ ایران کی موجودہ مہنگائی اور معاشی بحران کی بڑی وجہ ریال کی قدر میں مسلسل کمی ہے، جوگزشتہ اتوار کے روز 1.

42 ملین ریال فی امریکی ڈالر کی سطح تک جا پہنچی تھی، جبکہ پیر کو معمولی بہتری کے بعد کرنسی تقریباً 1.38 ملین ریال فی ڈالر پر آ گئی۔ واضح رہے کہ 2022 میں فرزین کے عہدہ سنبھالنے کے وقت ریال کی قدر تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار فی ڈالر تھی۔ ریال کی تیز گراوٹ کے باعث مہنگائی میں شدید اضافہ ہوا ہے، جس سے خوراک اور روز مرہ استعمال کی اشیاء عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں اور گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران 1979 سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے یہ پابندیاں نومبر 1979 میں شروع ہوئیں جب ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر حملہ کیا اور سفارت کاروں کو یرغمال بنا لیا۔ بعد ازاں وقت کے ساتھ ساتھ پابندیاں مزید سخت ہوتی گئیں۔ ایران پر عاید رہنے والی امریکا کی طویل اقتصادی، تجارتی، مالی اور فوجی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی اقتصادی صورتحال بری طرح متاثر ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے غربت، مہنگائی، بے روزگاری میں اضافہ اور معاشی نمو میں کمی واقع ہوئی ہے، ایران کی آمدنی کا اہم ذریعہ تیل کی برآمدات ہے جو پابندی کی وجہ سے بری طرح متاثر ہے۔ 2018 میں عاید کی جانے والی پابندی کے بعد تیل کی پیداوار اور جی ڈی پی میں بے انتہا گراوٹ آئی جس نے معیشت کا پہیہ جام کرکے رکھ دیا ہے۔ ایران میں ہونے والے حالیہ مظاہروں ایران دشمن طاقتوں بالخصوص امریکا اور اسرائیل کو مکمل طور پر کھل کھیلنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف جان لیوا کریک ڈاؤن کی بڑھتی ہوئی اطلاعات کے پیش نظر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔ اگر ایران میں پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی یا انہیں تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔ دوسری جانب اسرائیل نے بھی ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کی کھل کر حمایت کا اعلان کردیا ہے، اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سار کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران میں احتجاج کرنے والوں کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہے، ایرانی عوام آزادی کے حق دار ہیں اور اسرائیل کو ایرانی عوام سے کوئی دشمنی نہیں، بلکہ مسئلہ ایرانی حکومت سے ہے، ایرانی حکومت نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے، امریکا اور اسرائیل کے ان بیانات کے جواب میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ایران دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا اور مظاہرین میں سے ہنگامہ کرنے والوں کو ان کی حد میں رکھا جائے گا۔ امریکی دھمکی پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے کہا تھا کہ ایران کے احتجاجی معاملے میں امریکی مداخلت سے خطے میں عدم استحکام پھیل سکتا ہے۔ امریکا اور اسرائیل جو ایک طویل عرصے سے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے آرزو مند تھے، پیش آمدہ حالات و واقعات ان کے لیے ایک سنہری موقع ثابت ہورہا ہے۔ ایران پر اگر امریکا نے جنگ مسلط کی تو یہ جنگ ایران کی بقا کی جنگ ہوگی، ایسی صورتحال میں ایران ہرچہ باد آباد کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنی پوری قوت سے جنگ کے میدان میں اُتر آئے گا، جس سے خطہ جو پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے مزید آتش فشاں میں تبدیل ہوجائے گا، امریکا کا حملہ محض ایران پر حملہ نہیں ہوگا پورا مشرقِ وسطیٰ جنگ کی آگ سے بھڑک اُٹھے گا، ایران آبنائے ہرمز پر واقع ہے، جہاں سے دنیا کا تقریباً بیس فی صد تیل گزرتا ہے، کسی بھی جارحیت کی نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوجائے گا، عراق، افغانستان اور لیبیا میں امریکا نے جو کردار ادا کیا ہے اس کی وجہ سے امریکا کے حوالے سے بد اعتمادی کی جو فضا قائم ہوئی ہے حملے کی صورت میں ممکن ہے یورپی ممالک کھل کر امریکا کا ساتھ نہ دیں، علاوہ ازیں جو عوام سڑکوں پر ہیں حملے کی صورت میں وہ اپنے مسائل فراموش کر کے امریکا کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے کیونکہ ایران کے عوام یہ بات اچھی طرح جاننے ہیں کہ آج وہ جن مسائل و مشکلات سے دوچار ہیں یہ امریکا ہی کا پیدا کردہ ہے، وہاں کے عوام اس امر کو بھی فراموش نہیں کر سکتے کہ امریکا جہاں جہاں نجات دہندہ بن کر گیا ہے وہاں تباہی و بربادی کے سوا وہ کچھ اور نہیں دے سکا۔ موجودہ حالات خود ایران کے عوام کا بھی امتحان ہے کہ وہ دشمن کی سازشوں شکار ہوتے ہیں یا ملکی سالمیت کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج جو کچھ ایران میں ہورہا ہے اور ان واقعات کی آڑ میں ایران کے خلاف جو سازشیں کی جارہی ہیں مسلم دنیا کسی بھی صورت میں اس کی حمایت نہیں کرسکتی، تاہم خود ایران کو بھی اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے، معاشی پابندیوں کے باوجود ایران طویل عرصے تک علاقائی سطح پر طویل المدتی پراکسی وار لڑتا رہا، شام، یمن، لبنان اس کی مثالیں ہیں، جس کی وجہ سے ایران کی اقتصادی ترقی کی شرح نمو میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا، اور یہ دفاعی بجٹ کے لیے بھی بار ثابت ہوا۔ موجودہ حالات میں امریکا نے ایک بار پھر اپنے دوہرے معیار اور مسلم دشمنی کا کھل کر ثبوت پیش کردیا ہے۔ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں افراد شہید کیے گئے، اسرائیل نے وحشت ناک بمباری کر کے پورے غزہ کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا جس کے نتیجے میں صرف اسرائیل ہی نہیں پوری دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں عوام نے سڑکوں پر نکل کر اسرائیل کے خلاف مظاہرے کیے مگر اس کے باوجود امریکا نے اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی مگر ایران کے معاملے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو انسانی حقوق کی پامالی کا غم ستانے لگا ہے، اگر امریکا کا یہی طرز عمل برقرار رہا تو دنیا میں پر امن بقائے باہمی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ امریکا کے جارحانہ عزائم مسلم دنیا میں اشتعال پیدا کرنے کی کوشش ہے، امریکا کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جو آگ وہ مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکانا چا رہے اس کے شعلے صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے پوری دنیا اس آگ کی تپش محسوس کرے گی۔

 

اداریہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور اسرائیل ایران میں نتیجے میں میں ایران امریکا نے کی وجہ سے ایران کے ایران کی کہ ایران کے خلاف کے لیے کے بعد گیا ہے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم