data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260113-03-2
برادر اسلامی ملک ایران کی کرنسی کی قدر میں غیر معمولی کمی کے بعد مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف عوامی غصہ شدت اختیار کر گیا ہے، جس کی وجہ سے پورے ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، ان احتجاجی مظاہروں کے دباؤ پر ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ محمد رضا فرزین نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا۔ خبر رساں ادارے کے مطابق احتجاجی مظاہرے اصفہان، شیراز اور مشہد سمیت 70 شہروں تک پھیل گئے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ یہ مظاہرے 2022 کے بعد سب سے بڑے قرار دیے جا رہے ہیں، جب 22 سالہ مہسا جینا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد ایران بھر میں کئی ماہ تک احتجاجی لہر جاری رہی تھی۔ جن شہروں میں مظاہرے کیے جارہے ہیں تاریخی طور پر یہ علاقے ایران میں سیاسی تبدیلی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران بھی یہی بازار عوامی تحریک کا مرکز رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی تاجروں نے احتجاجاً کاروبار بند رکھا اور دیگر دکانداروں سے بھی شٹر ڈاؤن کی اپیل کی۔ رپورٹ کے مطابق کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہیں۔ ایران کی موجودہ مہنگائی اور معاشی بحران کی بڑی وجہ ریال کی قدر میں مسلسل کمی ہے، جوگزشتہ اتوار کے روز 1.
42 ملین ریال فی امریکی ڈالر کی سطح تک جا پہنچی تھی، جبکہ پیر کو معمولی بہتری کے بعد کرنسی تقریباً 1.38 ملین ریال فی ڈالر پر آ گئی۔ واضح رہے کہ 2022 میں فرزین کے عہدہ سنبھالنے کے وقت ریال کی قدر تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار فی ڈالر تھی۔ ریال کی تیز گراوٹ کے باعث مہنگائی میں شدید اضافہ ہوا ہے، جس سے خوراک اور روز مرہ استعمال کی اشیاء عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں اور گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران 1979 سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے یہ پابندیاں نومبر 1979 میں شروع ہوئیں جب ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر حملہ کیا اور سفارت کاروں کو یرغمال بنا لیا۔ بعد ازاں وقت کے ساتھ ساتھ پابندیاں مزید سخت ہوتی گئیں۔ ایران پر عاید رہنے والی
امریکا کی طویل اقتصادی، تجارتی، مالی اور فوجی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی اقتصادی صورتحال بری طرح متاثر ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے غربت، مہنگائی، بے روزگاری میں اضافہ اور معاشی نمو میں کمی واقع ہوئی ہے، ایران کی آمدنی کا اہم ذریعہ تیل کی برآمدات ہے جو پابندی کی وجہ سے بری طرح متاثر ہے۔ 2018 میں عاید کی جانے والی پابندی کے بعد تیل کی پیداوار اور جی ڈی پی میں بے انتہا گراوٹ آئی جس نے معیشت کا پہیہ جام کرکے رکھ دیا ہے۔ ایران میں ہونے والے حالیہ مظاہروں ایران دشمن طاقتوں بالخصوص امریکا اور
اسرائیل کو مکمل طور پر کھل کھیلنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف جان لیوا کریک ڈاؤن کی بڑھتی ہوئی اطلاعات کے پیش نظر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔ اگر ایران میں پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی یا انہیں تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔ دوسری جانب اسرائیل نے بھی ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کی کھل کر حمایت کا اعلان کردیا ہے، اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سار کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران میں احتجاج کرنے والوں کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہے، ایرانی عوام آزادی کے حق دار ہیں اور اسرائیل کو ایرانی عوام سے کوئی دشمنی نہیں، بلکہ مسئلہ ایرانی حکومت سے ہے، ایرانی حکومت نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے، امریکا اور اسرائیل کے ان بیانات کے جواب میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ایران دشمن کے سامنے
نہیں جھکے گا اور مظاہرین میں سے ہنگامہ کرنے والوں کو ان کی حد میں رکھا جائے گا۔ امریکی دھمکی پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے کہا تھا کہ ایران کے احتجاجی معاملے میں امریکی مداخلت سے خطے میں عدم استحکام پھیل سکتا ہے۔ امریکا اور اسرائیل جو ایک طویل عرصے سے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے آرزو مند تھے، پیش آمدہ حالات و واقعات ان کے لیے ایک سنہری موقع ثابت ہورہا ہے۔ ایران پر اگر امریکا نے جنگ مسلط کی تو یہ جنگ ایران کی بقا کی جنگ ہوگی، ایسی صورتحال میں ایران ہرچہ باد آباد کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنی پوری قوت سے جنگ کے میدان میں اُتر آئے گا، جس سے خطہ جو پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے مزید آتش فشاں میں تبدیل ہوجائے گا، امریکا کا حملہ محض ایران پر حملہ نہیں ہوگا پورا مشرقِ وسطیٰ جنگ کی آگ سے بھڑک اُٹھے گا، ایران آبنائے ہرمز پر واقع ہے، جہاں سے دنیا کا تقریباً بیس فی صد تیل گزرتا ہے، کسی بھی جارحیت کی نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوجائے گا، عراق، افغانستان اور لیبیا میں امریکا نے جو کردار ادا کیا ہے اس کی وجہ سے امریکا کے حوالے سے بد اعتمادی کی جو فضا قائم ہوئی ہے حملے کی صورت میں ممکن ہے یورپی ممالک کھل کر امریکا کا ساتھ نہ دیں، علاوہ ازیں جو عوام سڑکوں پر ہیں حملے کی صورت میں وہ اپنے مسائل فراموش کر کے امریکا کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے کیونکہ ایران کے عوام یہ بات اچھی طرح جاننے ہیں کہ آج وہ جن مسائل و مشکلات سے دوچار ہیں یہ امریکا ہی کا پیدا کردہ ہے، وہاں کے عوام اس امر کو بھی فراموش نہیں کر سکتے کہ امریکا جہاں جہاں نجات دہندہ بن کر گیا ہے وہاں تباہی و بربادی کے سوا وہ کچھ اور نہیں دے سکا۔ موجودہ حالات خود ایران کے عوام کا بھی امتحان ہے کہ وہ دشمن کی سازشوں شکار ہوتے ہیں یا ملکی سالمیت کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج جو کچھ ایران میں ہورہا ہے اور ان واقعات کی آڑ میں ایران کے خلاف جو سازشیں کی جارہی ہیں مسلم دنیا کسی بھی صورت میں اس کی حمایت نہیں کرسکتی، تاہم خود ایران کو بھی اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے، معاشی پابندیوں کے باوجود ایران طویل عرصے تک علاقائی سطح پر طویل المدتی پراکسی وار لڑتا رہا، شام، یمن، لبنان اس کی مثالیں ہیں، جس کی وجہ سے ایران کی اقتصادی ترقی کی شرح نمو میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا، اور یہ دفاعی بجٹ کے لیے بھی بار ثابت ہوا۔ موجودہ حالات میں امریکا نے ایک بار پھر اپنے دوہرے معیار اور مسلم دشمنی کا کھل کر ثبوت پیش کردیا ہے۔ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں افراد شہید کیے گئے، اسرائیل نے وحشت ناک بمباری کر کے پورے غزہ کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا جس کے نتیجے میں صرف اسرائیل ہی نہیں پوری دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں عوام نے سڑکوں پر نکل کر اسرائیل کے خلاف مظاہرے کیے مگر اس کے باوجود امریکا نے اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی مگر ایران کے معاملے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو انسانی حقوق کی پامالی کا غم ستانے لگا ہے، اگر امریکا کا یہی طرز عمل برقرار رہا تو دنیا میں پر امن بقائے باہمی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ امریکا کے جارحانہ عزائم مسلم دنیا میں اشتعال پیدا کرنے کی کوشش ہے، امریکا کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جو آگ وہ مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکانا چا رہے اس کے شعلے صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے پوری دنیا اس آگ کی تپش محسوس کرے گی۔

اداریہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ:
اور اسرائیل
ایران میں
نتیجے میں
میں ایران
امریکا نے
کی وجہ سے
ایران کے
ایران کی
کہ ایران
کے خلاف
کے لیے
کے بعد
گیا ہے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔