لال قلعہ کار دھماکہ کیس میں الفلاح یونیورسٹی کیمپس ضبط کئے جانے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
ذرائع نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ای ڈی اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا یونیورسٹی کی عمارتوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والی رقم مبینہ طور پر جرائم سے حاصل شدہ رقوم تو نہیں تھیں۔ اسلام ٹائمز۔ ہریانہ کے فرید آباد میں واقع الفلاح یونیورسٹی ایک بار پھر مودی تفتیشی ایجنسیوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) ریڈ فورٹ علاقے میں ہونے والے خودکش دھماکے سے جڑی تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر یونیورسٹی کیمپس کو منی لانڈرنگ مخالف قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت عارضی طور پر ضبط کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ای ڈی اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا یونیورسٹی کی عمارتوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والی رقم مبینہ طور پر جرائم سے حاصل شدہ رقوم تو نہیں تھیں۔
اس سلسلے میں الفلاح گروپ کے چیئرمین جواد احمد صدیقی کو نومبر میں منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ ای ڈی کے مطابق صدیقی اور ان کے زیرِ انتظام تعلیمی اداروں نے طلبہ اور والدین کو مبینہ طور پر غلط معلومات فراہم کر کے بھاری رقوم وصول کیں، جبکہ ان اداروں کے پاس تدریس کے لئے مطلوبہ درست منظوری اور تسلیم شدہ الحاق موجود نہیں تھا۔ ای ڈی کے مطابق کم از کم 415.
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد (پی ایم ایل اے) کے تحت ان تمام اثاثوں کو عارضی طور پر ضبط کرنے کا حکم جاری کیا جا سکتا ہے، جنہیں جرم سے حاصل شدہ رقوم سے تخلیق یا خریدا گیا ہو۔ ذرائع کے مطابق ضبطی کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مبینہ غیر قانونی اثاثے فروخت، منتقل یا ضائع نہ کیے جا سکیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ای ڈی نے عندیہ دیا ہے کہ ضبطی کے باوجود طلبہ کی تعلیم متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔ امکان ہے کہ حکومت کی جانب سے ایک ریسیور مقرر کر کے یونیورسٹی کا انتظام سنبھالا جائے، تاکہ تعلیمی سرگرمیاں بلا رکاوٹ جاری رہیں، جبکہ قانونی کارروائی اور فوجداری مقدمات اپنے منطقی انجام تک پہنچ سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یونیورسٹی کی کے مطابق
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔