انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے دعویٰ کیا کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن میں 648 مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس نے خبردار کیا کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے تاہم ملک بھر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ کے باعث اطلاعات کی آزادانہ تصدیق انتہائی مشکل ہو گئی۔

تنظیم کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کو طاقت کے ذریعے منتشر کیا، جس کے دوران براہ راست فائرنگ، گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی حکام سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کر رہے جبکہ سرکاری میڈیا ہلاکتوں کی تعداد کو کم ظاہر کر رہا ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران میں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر مظاہرین کے قتل کا سلسلہ جاری رہا تو واشنگٹن انتہائی سخت آپشنز پر غور کر سکتا ہے۔ ٹرمپ اس سے قبل بھی خبردار کر چکے ہیں کہ وہ مظاہرین کے قتل کی صورت میں کارروائی کریں گے۔

صدر ٹرمپ کے بیانات کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن دھوکے اور غدار کرائے کے عناصر پر انحصار کر رہا ہے۔ انہوں نے حکومت کے حق میں نکالی گئی سرکاری ریلیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم بیرونی دباؤ اور سازشوں کے سامنے نہیں جھکے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ اپنے بیانات پر عملی قدم اٹھاتے ہیں یا نہیں، کیونکہ کسی بھی ممکنہ امریکی مداخلت کے خطے اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ احتجاج کی ایک بڑی وجہ ایران کی کرنسی کی شدید گراوٹ، مہنگائی اور معاشی بحران ہے، جس نے عوامی غصے کو مزید بھڑکا دیا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ احتجاج اسلامی جمہوریہ ایران کو درپیش سب سے سنگین چیلنجز میں سے ایک بن چکا ہے۔

واضح رہے کہ بی بی سی اور دیگر بیشتر بین الاقوامی میڈیا ادارے ایران کے اندر سے آزادانہ رپورٹنگ کے قابل نہیں، جس کے باعث زمینی حقائق تک رسائی محدود ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق

سکردو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی ترقی مسلم لیگ (ن) کی اولین ترجیح ہے اور انہیں ملک کے دیگر صوبوں کی طرح مکمل آئینی اور بنیادی حقوق ملنے چاہئیں۔

(جاری ہے)

جی بی ای-8 سکردو-2 میں انتخابی مہم کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار حاجی اکبر تابان کی رہائش گاہ پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آ کر عوام کی محرومیاں ختم کرے گی اور گلگت بلتستان کے حقوق کیلئے پارلیمنٹ میں مؤثر آواز اٹھائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور خطے میں بجلی کے نئے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، پاکستان کے قیام کا جو مقصد تھا، اسے پورا کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے اور بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست الزام تراشی نہیں بلکہ دلیل، خدمت اور عوامی ترقی کی سیاست ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی