Daily Mumtaz:
2026-06-02@23:33:56 GMT

ایران کے پاس امریکی حملے کا جواب دینے کی کتنی صلاحیت ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

ایران کے پاس امریکی حملے کا جواب دینے کی کتنی صلاحیت ہے؟

ایران میں جاری احتجاج کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر مظاہرین کو مارا گیا تو وہ فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ جس پر ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کی کارروائی کی گئی تو جواب میں اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا۔

واشنگٹن پوسٹ اور وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کے معاملے میں امریکی مداخلت کے آپشنز پر غور کریں گے۔ ان آپشنز میں میں سائبر حملے، امریکی یا اسرائیلی فضائی حملے اور پابندیوں میں اضافے شامل ہو سکتے ہیں۔

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران کے پاس امریکا کے خلاف عسکری کارروائی کرنے کی صلاحیت موجود ہے؟

عالمی طاقتوں کا موازنہ کرنے والے ادارے ’گلوبل فائر پاور‘ کی 2025 کی مڈل ایسٹ رینکنگ کے مطابق ایران مشرق وسطیٰ میں تیسری بڑی فوجی قوت ہے اور دنیا میں عسکری لحاظ سے 16ویں بڑی طاقت ہے، جس کی آبادی 88 ملین سے زیادہ ہے اور فعال فوجی عملے کی تعداد 6 لاکھ 10 ہزار ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ایران کے پاس 551 طیارے ہیں، جن میں 113 لڑاکا طیارے ہیں۔ ساتھ ہی ایران کے پاس 1713 ٹینک اور 107 بحری جہاز موجود بھی ہیں۔

ایران اپنے روایتی فوجی دستوں کے ساتھ ساتھ نیم فوجی یونٹس اور علاقائی پراکسی گروپس کے ذریعے بھی خطے میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ جن میں لبنان کی حزب اللہ، یمن کی حوثی تحریک، عراق میں البدر تنظیم سمیت دیگر ملیشیا، شام میں بشارالاسد کی حامی ملیشیا، فاطمیون اور زینبیون بریگیڈز اور فلسطین میں حماس اور فلسطین اسلامک جہاد جیسی تنظیمیں شامل ہیں۔

ایران کے پاس درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے (مِڈ رینج) میزائل ہیں جو 1240 میل تک پہنچ سکتے ہیں، اور اس کے قریبی فاصلے تک مار کرنے والے (شارٹ رینج) میزائل 435 میل تک جا سکتے ہیں۔

تاہم، نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطاب، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران جنگ کے بعد ایران کے پاس مڈ رینج میزائلوں کا ذخیرہ بہت کم بچا ہے۔

امریکی دفاعی ادارے سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹدیز (سی ایس آئی ایس) کے مطابق ایران کے قریبی فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کئی امریکی فوجی اڈوں تک پہنچ سکتے ہیں، جو کویت، عراق، قطر، عمان اور متحدہ عرب امارات میں واقع ہیں۔

خطے میں امریکا کے 19 مختلف مقامات پر بیسز ہیں، جن میں بحرین، مصر، عراق، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور یو اے ای شامل ہیں۔

ان اڈوں میں ہزاروں امریکی فوجی تعینات ہیں اور جدید فضائی دفاعی نظام موجود ہے، تاہم ایران کی جانب سے میزائل حملوں یا مسلح ڈرونز کی صورت میں الرٹ کا وقت محدود ہوگا۔

ایران کی حمایت یافتہ فورسز نے حالیہ جنگ غزہ اور اس کے بعد خطے میں دیگر ریاستی اور غیر ریاستی فریقوں کے ساتھ تنازعات کے دوران متعدد بار امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے ہیں۔

پچھلے سال جون میں تہران نے اپنے تین جوہری مقامات پر حملے کے بعد قطر میں موجود امریکی بیس پر میزائل حملے کیے تھے۔ تاہم، امریکی حکام کے مطابق میزائل حملے کامیابی کے ساتھ روکے گئے اور کسی بھی قسم کی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

اس کی ایک مثال 2019 میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں کیے گئے دو میزائل حملے ہیں، جنہوں نے مملکت کی تیل کی پیداوار تقریباً آدھی کردی تھی۔

جنوری 2024 میں اردن میں شامی سرحد کے قریب واقع ٹاور 22 ملٹری بیس پر یکطرفہ ڈرون حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ امریکی حکام نے اس حملے کی ذمہ داری عراق میں ایران کے حمایتی ملیشیائی گروپ پر عائد کی تھی۔

ایران امریکی فوجی مراکز کے علاوہ خلیجی ممالک میں اہم تیل اور گیس کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے تاکہ تیل کی سپلائی محدود کرکے امریکا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔

یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ایران یا اس کے حمایت یافتہ گروپس خطے میں موجود امریکی اثاچوں کو نقصان پہنچانے کی محدود صلاحیت رکھتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایران کے پاس امریکی فوجی کرنے والے کے مطابق سکتے ہیں

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان