کراچی؛ کورنگی میں بھتہ نہ دینے پر ملزمان کی فیکٹری نذرآتش کرنے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
کراچی:
کورنگی کے علاقے میں بھتہ نہ دینے کی صورت پر کمپنی سے نکالے جانے والے ملازم نے فیکٹری نذرآتش کرنے کی دھمکی دے دی۔
فیکٹری سے بھتہ طلب کرنے پر پولیس نے انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
عوامی کالونی پولیس نے فیکٹری کے سیکیورٹی انچارج محمد اصغر کی مدعیت میں نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق شہزاد نامی شخص جو کمپنی میں ملازم تھا انتظامیہ نے خراب کردار کے باعث نکال دیا تھا، 9 جنوری کو صبح شہزاد اپنے دیگر ساتھیوں اقبال ابڑو، سدھیر، اشفاق اور دیگر نامعلوم افراد کے ساتھ فیکٹری آیا اور انتظامیہ کو دھمکی دی کہ اگر پہلے کی طرح لاکھوں روپے بھتہ نہ دیا تو فیکٹری کو آگ لگا دیں گے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان نے دھمکی دی کہ تمام لوگوں کو جان سے مار دیں گے اور فیکٹری میں کسی کو آنے نہیں دیں گے۔
ملزم اس سے قبل بھی متعدد بار فیکٹری سے لاکھوں روپے بھتہ وصول کر چکا ہے، ملزمان نے فیکٹری انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے دھرنا بھی دیا تھا۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ