وزیر پیٹرولیم کی سعودی عرب کے وزیرِ صنعت و معدنی وسائل سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے وزیرِ صنعت و معدنی وسائل بندر ابراہیم الخریف سے ملاقات کی جس میں معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے، مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور معدنی ویلیو چین کے مختلف مراحل میں اشتراکِ عمل بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سعودی وزارتِ صنعت و معدنی وسائل کے زیرِ اہتمام فیوچر منرلز فورم (ایف ایم ایف) 2026 کے موقع پرمنعقدہ ملاقات میں سعودی وزیر نے فورم میں پاکستان کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی توجہ تیزی سے کان کنی اور اہم معدنیات کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔
انہوں نےمعدنی شعبے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات پر روشنی ڈالی اور یقین دلایا کہ سعودی عرب اپنے علمی وسائل اور تکنیکی مہارت کے ذریعے پاکستان کے معدنی شعبے کی معاونت کرے گا۔
انہوں نے پاکستان کی نوجوان اور متحرک افرادی قوت کو بھی ایک اہم اثاثہ قرار دیا۔وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جیولوجیکل سروے آف پاکستان، سعودی جیولوجیکل سروے کے ساتھ اشتراکِ عمل پر کام کر رہا ہے اور ٹیتھیان بیلٹ کی وسیع معدنی صلاحیت کو اجاگر کیا جس میں ریکوڈک صرف ایک چھوٹا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کھادوں کی تیاری اور طبی آلات کی صنعت میں بھی مشترکہ منصوبوں کے نمایاں مواقع موجود ہیں۔
پاکستانی وفد میں اعلیٰ سطحی پالیسی ساز، سرکاری اداروں کے سربراہان، نجی شعبے کے نمائندگان اور کان کنی کے شعبے کے اہم شراکت دار شامل ہیں جن میں پی پی ایل، او جی ڈی سی ایل، ماڑی انرجیز، جی ایچ پی ایل، ایف ڈبلیو او، پی ایم ڈی سی، سائنڈک میٹلز اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والی معدنی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ خصوصی سروس فراہم کرنے والو ں نے بھی شرکت کی۔
ایف ایم ایف 2026 میں پاکستان کی شرکت کا اہتمام پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ نے وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کے تعاون سے کیا ہے۔ “Mineral Marvel – Unleashing Pakistan’s Mineral Revolution” کے عنوان سے قائم پاکستان پویلین میں ملک کی متنوع ارضی ساخت، نمایاں معدنی منصوبے اور سرمایہ کاری کے مواقع پیش کیے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سعودی عرب کے انہوں نے
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز