کے پی اسمبلی کی سیکورٹی کمیٹی کا کور کمانڈر پشاور کو بریفنگ کا خط تنازع بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے سکیورٹی کی جانب سے کور کمانڈر پشاور کو امن و امان پر اِن کیمرا بریفنگ کے لیے لکھا گیا خط تنازع کا سبب بن گیا ہے۔
صوبائی اسمبلی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں کہا گیا کہ صرف فوجی آپریشنز کے ذریعے پائیدار امن ممکن نہیں، بلکہ سیاسی اور سماجی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
سکیورٹی ذرائع نے جنگ نیوز سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ صوبائی اسمبلی یا حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ براہِ راست فوجی قیادت، خصوصاً کور کمانڈر یا جی ایچ کیو سے اِن کیمرا بریفنگ کا مطالبہ کریں۔ ذرائع کے مطابق، خط تاحال کور ہیڈکوارٹر کو موصول نہیں ہوا اور امن و امان پر ایسی بریفنگ کے لیے وفاقی منظوری لازمی ہے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ روزمرہ رابطے اور کوآرڈینیشن کی اجازت اپنی جگہ موجود ہے، لیکن اِن کیمرا بریفنگ حساس اور باضابطہ ادارہ جاتی عمل ہے، جس کے بغیر کوئی اقدام غیر معیاری سمجھا جائے گا۔ اس معاملے سے صوبائی اسمبلی اور سکیورٹی اداروں کے درمیان ممکنہ تناؤ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت