راولپنڈی میں سکیورٹی ہائی الرٹ، دفعہ 144 نافذ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: راولپنڈی میں سکیورٹی ہائی الرٹ کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ اڈیالہ جیل اور اس کے اطراف کے علاقوں میں سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔
پولیس نے دایگل اور گورکھپور ناکوں پر بھاری نفری تعینات کی ہے۔ آج منگل کو اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے ملاقات کا دن ہے۔ ملاقات کے لیے سلمان اکرم راجہ، بیرسٹر گوہر سمیت چھ رہنماؤں کی فہرست گزشتہ روز جیل انتظامیہ کو بھجوائی گئی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں بھی ملاقات کے لیے جیل پہنچیں گی۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا
ادھر 26 نومبر احتجاج کے مقدمے کی سماعت راولپنڈی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں آج ہوگی، جس میں علیمہ خانم سمیت 11 ملزمان زیر سماعت ہیں۔ سماعت جج امجد علی شاہ کریں گے۔ مقدمے کے 11 ملزمان میں سے 8 ملزمان کی حد تک استغاثہ کے 18 گواہان پر دونوں جانب سے جرح مکمل ہو چکی ہے، جبکہ علیمہ خانم اور شریک ملزم عاطف ریاض کے وکلا آج 10 گواہان پر جرح مکمل کریں گے۔
گزشتہ روز عدالت نے ملزمان کے وکلا کو عدم پیشی پر وارننگ جاری کی تھی اور عدالتی احکامات کے تحت آج ہر صورت میں جرح مکمل کی جائے گی۔ اگر وکلا پیش نہیں ہوئے تو عدالت اسٹیٹ کونسل مقرر کر دے گی۔
سہیل آفریدی نے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی؛ عطاء اللہ تارڑ
سینئر پراسیکیوٹر ظہیر شاہ پر مشتمل پراسیکیوشن ٹیم بھی کمرہ عدالت میں پیش ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ