چین نے امریکا کی ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر پابندیوں کی مخالفت کردی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین نے امریکی انتظامیہ کے ایران کے بارے میں نقطہ نظر پر تنقید کی ہے اور مظاہروں کے دوران بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر یکطرفہ دباؤ سے خبردار کیا ہے۔

واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ کسی بھی غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں اور طویل دائرہ اختیار کے نفاذ کی سخت مخالفت کرتا ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

چینی سفارتخانے کے ایک ترجمان نے کہا کہ چین کی موقف یکطرفہ محصول عائد کرنے کے خلاف واضح اور مستقل ہے۔ ٹیرف کی جنگوں اور تجارتی جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا، اور دباؤ یا جبر سے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔

چین کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ممالک جو ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھیں گے، ان پر 25 فیصد محصول عائد کیا جائے گا۔ اس اقدام کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

دوسری جانب ایران میں جاری احتجاج اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی۔

ایران میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مظاہروں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جو مزید تشدد کی صورت اختیار کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں گرفتاریوں اور زخمی ہونے کے واقعات کا خدشہ ہے۔

امریکی حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ممکن ہو تو زمینی راستوں کے ذریعے آرمینیا یا ترکیہ کے راستے ایران سے نکل جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار