امریکا کی ایران سے تجارت پر نئی ٹیرف دھمکی، چین کا سخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
چین نے امریکا کی ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر پابندیوں کی مخالفت کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین نے امریکی انتظامیہ کے ایران کے بارے میں نقطہ نظر پر تنقید کی ہے اور مظاہروں کے دوران بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر یکطرفہ دباؤ سے خبردار کیا ہے۔
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ کسی بھی غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں اور طویل دائرہ اختیار کے نفاذ کی سخت مخالفت کرتا ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
چینی سفارتخانے کے ایک ترجمان نے کہا کہ چین کی موقف یکطرفہ محصول عائد کرنے کے خلاف واضح اور مستقل ہے۔ ٹیرف کی جنگوں اور تجارتی جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا، اور دباؤ یا جبر سے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔
چین کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ممالک جو ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھیں گے، ان پر 25 فیصد محصول عائد کیا جائے گا۔ اس اقدام کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
دوسری جانب ایران میں جاری احتجاج اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی۔
ایران میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مظاہروں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جو مزید تشدد کی صورت اختیار کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں گرفتاریوں اور زخمی ہونے کے واقعات کا خدشہ ہے۔
امریکی حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ممکن ہو تو زمینی راستوں کے ذریعے آرمینیا یا ترکیہ کے راستے ایران سے نکل جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔