پائیدار اور بااختیار بلدیات کے لیے قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اگر چاہتے ہیں کہ جمہوریت کے ثمرات اگر عام لوگوں تک پہنچے تو بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے رویے درست نہیں کریں گے تو آئین اور قانون میں جو بھی لکھیں فائدہ نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے وقت وزیراعظم نے مجھے کہا کہ ایم کیو ایم کی طرف سے بلدیاتی نظام پر آنے والے مسودے پر جو جماعتیں تیار ہیں ان کے ساتھ بیٹھیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد کا نیا بلدیاتی نظام، ایک شہر، 3 میئر، کوئی فائدہ ہو گا؟
ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم سے قبل یا بعد میں صوبوں اور وفاق کا رشتہ ہے وہ برقرار رہے لیکن اگر ہم درست معنوں میں اختیارات کی منتقلی چاہتے ہیں تو بلدیاتی اداروں کو اختیارات دیے بغیر ممکن نہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم سب کو کھلے ذہن کے ساتھ بیٹھ کر قومی ڈائیلاگ کرنا چاہیے کہ ہمیں ایک پائیدار اور بااختیار بلدیاتی نظام چاہیے، اسی میں پاکستان کی بھلا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد اعظم نذیر تارڑ بلدیاتی نظام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد اعظم نذیر تارڑ بلدیاتی نظام بلدیاتی نظام
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔