ایران کیخلاف حملے سے پہلے سفارتکاری کو موقع دینا چاہیے: نائب امریکی صدر
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں سینئر مشیروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی سے قبل سفارتی راستہ اختیار کیا جائے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے تناظر میں صدر ٹرمپ ایران پر حملے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں، تاہم نائب صدر اور ان کے قریبی معاونین کا مؤقف ہے کہ پہلے سفارتکاری کو موقع دیا جانا چاہیے۔
ایک امریکی اخبار نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ اگرچہ اس وقت ان کا جھکاؤ فوجی کارروائی کی جانب ہے، تاہم حالات کے مطابق ان کا مؤقف تبدیل ہو سکتا ہے۔
کچھ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صدر پہلے محدود حملے کی منظوری دے سکتے ہیں، جس کے بعد ایران کے ساتھ مذاکرات پر غور کیا جا سکتا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس، ایران کی جانب سے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی پیشکش کا بھی جائزہ لے رہا تھا، اسی دوران صدر ٹرمپ فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر سنجیدگی سے غور کرتے نظر آئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔