معروف ہالی ووڈ اداکار نے امریکی صدر کو دنیا کا بدترین انسان قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
معروف ہالی ووڈ اداکار نے امریکی صدر کو دنیا کا بدترین انسان قرار دے دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 13 January, 2026 سب نیوز
ہالی ووڈ کے معروف اداکار مارک روفیلو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دنیا کا بدترین انسان قرار دے دیا۔
ایچ بی او ڈرامے ‘ٹاسک‘ میں بہترین کارکردگی کے لیے گولڈن گلوب ایوارڈز کے لیے نامزد اداکار مارک روفیلو نے ریڈ کارپٹ تقریب میں شرکت کی۔
اس موقع پر انہوں نے ’بی گڈ‘ پہنی ہوئی تھی جو حال ہی میں امریکی امیگریشن اہلکاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والی 37 سالہ خاتون رینی نیکول گڈ کی یاد میں تھی۔
مارک روفیلو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ چاہ کر بھی جشن منانے کی حالت میں نہیں ہیں، کیونکہ امریکا میں رونما ہونے والے واقعات اب معمول کی بات نہیں رہے۔
انہوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سخت مخالفت کی اور انہیں ’بدترین انسان‘ قرار دیا، ساتھ ہی امریکا کی خارجہ پالیسیز اور بین الاقوامی قوانین پر بھی تنقید کی۔
مارک روفیلو کا کہنا تھا کہ یہ پن خاص طور پر رینی گڈ اور ان تمام لوگوں کے لیے ہے جنہیں امریکا میں خوف اور دہشت محسوس ہو رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں مگر اس وقت جو حالات ہیں، وہ امریکا جیسے نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ تقریب میں دیگر کئی معروف اداکار بھی ’بی گڈ‘ یا ’آئی سی ای آؤٹ‘ کی پنز پہن کر اس احتجاج کا حصہ بنے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربنوں: امن کمیٹی پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق بنوں: امن کمیٹی پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق پاکستان اور یو اے ای کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس پر اتفاق پنجاب میں کاشتکاروں کی سہولت کیلئے منفرد ایگریکلچر لیب آن وہیل قائم کرنے کا فیصلہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق، محمود اچکزئی واحد امیدوار واٹس ایپ صارفین خبردار، ہائی جیکنگ خطرات میں اضافہ، کیسے بچا جائے؟ یوکرین مسئلے کا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے: پاکستانی مندوبCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔