چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سندھ ہائیکورٹ کے 12 ایڈیشنل ججز کی مستقلی سے متعلق غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران جوڈیشل کمیشن نے 12 میں سے 10 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی، جس کا باضابطہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: جوڈیشل کمیشن اجلاس: اسلام آباد اور بلوچستان ہائیکورٹس کے لیے ججوں کی مستقل تقرری کی منظوری

اعلامیے کے مطابق جن ججز کو مستقل کیا گیا ان میں جسٹس میراں محمد شاہ، جسٹس تسلیم سلطانہ، جسٹس ریاضت علی سحر، جسٹس محمد حسن اکبر، جسٹس عبدالحامد بھرگی، جسٹس جان علی جونیجو، جسٹس ناصر احمد بھنبوڑو، جسٹس علی حیدر ادا، جسٹس عثمان علی اور جسٹس محمد جعفر رضا شامل ہیں۔ جبکہ جوڈیشل کمیشن نے جسٹس خالد حسین شہانی اور جسٹس فیاض الحسن شاہ کو چھ ماہ کے لیے توسیع دینے کی منظوری دی۔

اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کی مدت میں بھی چھ ماہ کی توسیع کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی آئینی بینچ کے لیے جسٹس امجد علی، جسٹس حسن اکبر اور جسٹس عثمان علی ہادی کو نامزد کر دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکشن کمیشن جوڈیشل کمیشن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن جوڈیشل کمیشن جوڈیشل کمیشن کے لیے

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت