سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا حکومتی اتحاد میں رہنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔

اسلام آباد میں اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں راجا پرویز اشرف نے کہا کہ حکومت نے آرڈیننس کے معاملے پر ہمارے واک آؤٹ کا نوٹس لیا، یہ اچھی بات ہے۔

ہمیں دیکھنا ہوگا ایسا کیوں اور کن حالات میں کیا گیا؟ راجا پرویز اشرف

سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ایسا کیوں ہوا اور کن حالات میں ایسا کیاگیا۔

انہوں نے کہا کہ حکمران اتحاد میں مکمل یکجہتی کی فضا ہے، یہ یکجہتی پاکستان کے مفاد میں ہے، پیپلز پارٹی کا حکومتی اتحاد میں رہنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ملکی مفاد میں فیصلے کرنے چاہئیں، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کا معاملہ حل ہوجائے گا، ہمارا قائد حزب اختلاف نہیں ہوگا۔

اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا کابینہ ارکان کو کابینہ میں شرکت یقینی بنانے کا حکم درست ہے، کابینہ اجلاس اہم ہوتا ہے، ہر ممبر کو لازمی شرکت کرنی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پاکستان کے مفاد میں ہے راجا پرویز اشرف پیپلز پارٹی اتحاد میں نے کہا

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ