جماعت اسلامی کا دوٹوک مؤقف، کسی انتخابی اتحاد میں شامل نہ ہونے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
لاہور: جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی مستقبل میں کسی بھی انتخابی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی اور اپنی سیاست آزادانہ بنیادوں پر جاری رکھے گی۔
پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنی نظریاتی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور کسی وقتی مفاد یا سیاسی سمجھوتے کے تحت فیصلے نہیں کرے گی۔
لیاقت بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’بدل دو نظام‘‘ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک منظم اور ہمہ جہت عوامی تحریک ہے، جس کا مقصد ملک میں حقیقی جمہوری، معاشی اور سماجی اصلاحات لانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، جس کی بڑی وجہ سیاسی رہنماؤں اور خواتین کی گرفتاریوں اور سزائیں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے تاکہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم ہو اور مکالمے کی راہ ہموار ہو سکے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے زور دیا کہ سیاست کو بند گلی سے نکالنے کے لیے قومی قیادت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ملک کو درپیش مسائل کا حل محاذ آرائی نہیں بلکہ باہمی مشاورت اور قومی سطح پر اتفاق رائے سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی بہتری کا خواب پورا نہیں ہو سکتا، اس لیے تمام جماعتوں کو جلسے جلوس اور سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے عوام تک اپنا مؤقف پہنچانے کا حق دیا جانا چاہیے۔
لیاقت بلوچ نے اپنے خطاب میں کشمیر اور فلسطین کے مسائل پر بھی بات کی اور کہا کہ دینی جماعتیں ہمیشہ مظلوم اقوام کی قابلِ اعتماد آواز رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کی بھرپور حمایت جماعت اسلامی کی پالیسی کا حصہ ہے اور یہ حمایت مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے 17 نکاتی ضابطۂ اخلاق پر تمام مسالک اور مکاتبِ فکر کے علما اور قیادت کا اتفاق قومی ہم آہنگی کی مضبوط بنیاد ہے۔ پاکستان کو درپیش بدامنی اور دہشت گردی کے پیچھے عالمی طاقتوں کا گٹھ جوڑ کارفرما ہے، جسے سمجھنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے قوم کو متحد ہونا ہوگا۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے وفاقی وزیر احسن اقبال کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کے حقائق تشویشناک ہیں اور اس صورتحال سے نکلنے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اپنی سیاست عوامی مسائل کے حل اور قومی مفاد کے تحت جاری رکھے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل جماعت اسلامی انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :