data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

راولپنڈی: جنرل ہیڈکوارٹرز میں آج نیشنل پیس اینڈ ایکشن کونسل (این پی اے سی) کے وفد نے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر سے اہم ملاقات کی، جس میں قومی سلامتی، ریاستی بیانیے کے فروغ، داخلی استحکام اور دشمن عناصر کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق ملاقات کو غیر معمولی طور پر اہم اور نتیجہ خیز قرار دیا گیا، جس میں ریاستی اداروں اور مذہبی و سماجی قیادت کے درمیان اعتماد اور عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

ملاقات کے دوران این پی اے سی کے وفد نے پاک افواج کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا۔ وفد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے خلاف سرگرم ریاست دشمن بیانیوں، افواہوں اور نفسیاتی جنگ کا اجتماعی طور پر مقابلہ کیا جائے گا تاکہ عوام میں شکوک و شبہات پیدا کرنے والی قوتوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

این پی اے سی کی جانب سے فتنۃ الخوارج، ٹی ٹی پی اور افغان طالبان سے منسوب دہشت گردی کی سرگرمیوں کی دو ٹوک الفاظ میں مذمت کی گئی۔ وفد کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا نہ کوئی مذہبی، اخلاقی یا انسانی جواز ہے اور نہ ہی ایسے عناصر کا کسی بھی طرح دفاع کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ دین اسلام امن، رواداری اور انسانی جان کے تحفظ کا درس دیتا ہے جب کہ تشدد اور خونریزی اسلامی تعلیمات کے صریح منافی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی سلامتی کے امور پر یکسوئی، فکری ہم آہنگی اور متفقہ قومی بیانیہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فتنۃ الخوارج، ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند عناصر کے تناظر میں داخلی سلامتی کے چیلنجز پر سنجیدہ اور جامع مکالمہ ناگزیر ہے اور اس حوالے سے مذہبی و سماجی قیادت کا کردار نہایت اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دشمن کی جانب سے پھیلائی جانے والی نفسیاتی جنگ کے مقابلے میں سچائی، آگاہی اور عوامی شعور ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہیں۔

ملاقات میں کشمیر اور غزہ کے حوالے سے پاکستان کے اصولی اور دو ٹوک مؤقف کی بھی توثیق کی گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مظلوم کشمیریوں اور فلسطینی عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت پاکستان کی قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، جس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوا جا سکتا۔ این پی اے سی نے بھی اس مؤقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے اسے امت مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کی آواز قرار دیا۔

این پی اے سی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ منبر و محراب کے ذریعے اتحادِ امت، سماجی ہم آہنگی، آئینی برابری اور قومی یکجہتی کے پیغام کو ملک بھر میں منظم انداز میں پھیلایا جائے گا۔

وفد نے نفرت انگیزی، فرقہ واریت اور تکفیری سوچ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر مکمل اتفاق کا اظہار کیا اور کہا کہ اس ناسور کے خاتمے کے لیے علما، مدارس، مساجد اور تعلیمی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: آئی ایس پی آر پی اے سی وفد نے کہا کہ

پڑھیں:

کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔

گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟

کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔

گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم

نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی