Daily Mumtaz:
2026-07-24@02:12:48 GMT

پاکستان، جاپان کے درمیان 2.91ارب ین کے معاہدے پر دستخط

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

پاکستان، جاپان کے درمیان 2.91ارب ین کے معاہدے پر دستخط

اسلام آباد:(نیوزڈیسک) پاکستان اور جاپان نے جنوبی پنجاب میں بچوں کی صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات میں بہتری سے متعلق 2.91 ارب جاپانی ین مالیت کے منصوبہ پر دستخط کردئیے، اس حوالے سے وزارت اقتصادی امور میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔

وزارت اقتصادی امورکی جانب سے جاری بیان کے مطابق حکومتِ جاپان نے جاپانی گرانٹ اِن ایڈ کے تحت جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کے ذریعے اس منصوبے کے لیے 2.

91 ارب جاپانی ین (تقریباً 18.62 ملین امریکی ڈالر) کی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد چلڈرن ہسپتال اور انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (آئی سی ایچ) ملتان میں تشخیصی اور علاج معالجے کے نظام کو مضبوط بنانا اور سہولیات کی توسیع اور ضروری طبی آلات کی فراہمی کے ذریعے اسے خطے کے واحد ٹرشری کیئر ہسپتال کے طور پر مزید مؤثر بنانا ہے۔ یہ منصوبہ زیادہ خطرے سے دوچار نوزائیدہ ، شیر خوار اور بیماریوں میں مبتلا بچوں کو معیاری طبی خدمات فراہم کرنے میں معاون ہوگا، جس کے نتیجے میں جنوبی پنجاب اور دیگر صوبوں میں بچوں کے لیے صحت کی خدمات کے معیار میں بہتری آئے گی۔

ایکسچینج آف نوٹس پر پاکستان کی جانب سے سیکرٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم اور جاپان کی طرف پاکستان میں تعینات سفیر اکا ماتسو شوئچی نے دستخط کیے۔ سیکرٹری اقتصادی امور نے جاپانی حکومت اور عوام کی قیمتی معاونت کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ منصوبے کے کامیاب نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی اور دونوں ممالک کے درمیان مزید بامعنی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔جاپانی سفیر اکاماتسو شوئچی نے حکومتِ جاپان کی جانب سے حکومتِ پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے اور دوستانہ تعلقات اور دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کااعادہ کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان