نئے صوبوں کے بغیر کوئی حل نہیں، سیاسی جماعتوں کو اس پر سوچنا ہوگا، استحکام پاکستان پارٹی کا دوٹوک مؤقف
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی گل اصغر خان نے کہا ہے کہ نئے صوبے بنائے بغیر ملکی مسائل حل نہیں ہو سکتے، بڑی سیاسی جماعتوں کو اس پر سوچنا ہوگا۔
’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہماری پارٹی کا بڑا واضح مؤقف ہے کہ اگر آپ صوبے نہیں بنائیں گے تو اتنی بڑی آبادی کو کیسے کنٹرول کریں گے۔
استحکام پاکستان پارٹی چھوٹے صوبوں کے لیے کیوں سرگرم ہے؟ رکن اسمبلی نے بتایا دیا pic.
— WE News (@WENewsPk) January 13, 2026
مزید پڑھیں: نئے صوبے ملک کے مفاد میں ہیں، مخالفت کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا، عبدالعلیم خان
انہوں نے کہاکہ پنجاب 12 کروڑ آبادی پر مشتمل صوبہ ہے جبکہ یورپ میں تو اتنا بڑا ملک نہیں ہے، ہمیں امریکا، چین اور انڈیا کے صوبوں کو دیکھ لینا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ بڑی سیاسی جماعتیں کنٹرول نہیں چھوڑنا چاہتیں جو اصل مسئلہ ہے، ورنہ نئے صوبوں کے نام اربن سندھ، رورل سندھ، سینٹرل پنجاب، نارتھ پنجاب وغیرہ بھی رکھے جا سکتے ہیں۔
گل اصغر خان نے کہاکہ لوگ دور دراز سے خوار ہو کر جب لاہور پہنچتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ آج چیف سیکریٹری صاحب نہیں ہیں، آج سیکریٹری نہیں بیٹھا اور پھر ان کو واپس جانا پڑتا ہے، ایسے نظام نہیں چل سکتا۔
آئی پی پی کے رکن اسمبلی نے کہاکہ بڑی پارٹیوں کا اگر ووٹ بینک ہے تو انہی کے ایک کے بجائے چار وزرائے اعلیٰ ہوں گے تو پھر اعتراض کس بات کا ہے۔
انہوں نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ وہاں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو ہر شخص جانتا ہے، ہمیں ہر صورت نئے صوبوں کے بارے میں سوچنا ہوگا۔
مزید پڑھیں: ملک میں نئے صوبے بنانے کی بازگشت، بلاول بھٹو بول پڑے
واضح رہے کہ استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے صدر عبدالعلیم خان نے کچھ روز قبل کہا تھا کہ نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والوں کو ہمیں جواب دینا ہوگا کیوں کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی پی پی استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نئے صوبے وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی پی پی استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان وی نیوز استحکام پاکستان پارٹی ا ئی پی پی انہوں نے نے کہاکہ صوبوں کے
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔