کے الیکٹرک اور ڈسکوز کیلئے بجلی کا یکساں ٹیرف نافذ ہوگا، نیپرا
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نیوزڈیسک) حکومت کو کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین کیلئے یکساں ٹیرف لاگو کرنے کا گرین سگنل مل گیا۔ نیپرا نے وفاقی حکومت کی درخواست منظور کرلی۔ جاری فیصلے کے مطابق بنیادی ٹیرف بھی برقرار رہے گا۔
نیپرا کے مطابق گھریلو صارفین کےلیے بجلی کا زیادہ ٹیرف 47 روپے 69 پیسے فی یونٹ برقرار رہے گا۔ ماہانہ 50 یونٹ تک کےگھریلولائف لائن صارفین کےلیے ٹیرف تین روپے 95 پیسے فی یونٹ اور 51 سے 100 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے ٹیرف 7 روپے 74 پیسے فی یونٹ پر برقرار رہے گا۔
ماہانہ 101 یونٹ تک پروٹیکٹڈ صارفین کاٹیرف 10 روپے 54 پیسے اور 101 سے 200 یونٹ تک پروٹیکٹڈ صارفین کا ٹیرف 13.
ماہانہ 301 سے 400 یونٹ کا ٹیرف 37.99 روپے، 401 سے 500 یونٹ کا ٹیرف 40.22 روپے جبکہ 501 سے 600 یونٹ کا ٹیرف 41.62 روپے فی یونٹ برقرار رکھا جائے گا۔ 601 سے 700 یونٹ کا ٹیرف 42.67 اور 700 سے زائد یونٹ کا ٹیرف 47.69 روپے فی یونٹ برقرار رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فی یونٹ برقرار برقرار رہے گا پیسے فی یونٹ یونٹ کا ٹیرف یونٹ تک
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔