data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

راولپنڈی: تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عوام بانی پی ٹی آئی کے بارے میں سننا چاہتے ہیں اور ان کی رہائی کے لیے جو کرنا پڑا وہ کریں گے، ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔

راولپنڈی کے علاقے فیکٹری ناکہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ سہیل آفریدی پاکستان کا مستقبل ہیں اور یہ نئی سیاست کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرانی سیاست کو نوجوانوں نے دفن کر دیا ہے اور نئی نسل کو سیاست میں متحرک دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔

انہوں نے کراچی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ وہاں خوف پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق کراچی میں بالکل خوف نہیں، یہاں تو چھوٹے سے چھوٹا افسر بھی بلٹ پروف گاڑی کے بغیر نہیں چلتا، لیکن سہیل آفریدی گاڑی کی چھت پر بیٹھ کر پورا وقت گزار کر آئے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کراچی کے لوگ پرامن ہیں۔

علیمہ خان نے کہا کہ سہیل آفریدی نے کراچی کے خوف کے بت توڑ دیے ہیں اور وہ معمولی باتیں نہیں کر کے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے دلیر نوجوان ہی پاکستان کے مستقبل کے سیاستدان ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین بانی ہیں اور ان کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ بھی بانی پی ٹی آئی کا پیغام لے کر آئی ہیں اور اسے ایکس پر شیئر کیا گیا ہے، جسے پورا پاکستان پڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہر پاکستانی سیاستدان بن چکا ہے اور عوام جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے جج کون ہیں، سیاستدان کون ہیں اور وہ ملک کے لیے کیا کر رہے ہیں۔

علیمہ خان نے کہا کہ نیا پاکستان بن چکا ہے اور اب عوام ہی فیصلہ کرتے ہیں کہ ملک کس سمت میں جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور  پیپلزپارٹی (پی پی پی) کا نظام کمپنیوں جیسا ہے جن کی شیئر ہولڈنگ ہوتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ لوگ اس لیے کھڑے ہیں کیونکہ عوام بانی پی ٹی آئی کے بارے میں سننا چاہتے ہیں۔ ان کی رہائی کے لیے جو بھی کرنا پڑا وہ کریں گے اور ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔

علیمہ خان کے مطابق بانی پی ٹی آئی ہدایات بھیجتے ہیں کہ سلمان اکرم راجا کو کیا ہدایات دینی ہیں یا عوام کے سامنے کیا بیان دینا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب وہ عدالت میں کھڑی تھیں تو وہاں خفیہ ادارے کا ایک اہلکار بھی موجود تھا۔

صحافی کے ایک سوال کے جواب میں، جس میں ان سے کہا گیا کہ ان کی گرفتاری نہ ہونے پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ طاقتور لوگ ہیں اور انہوں نے وزیراعلیٰ کو تبدیل کروایا، علیمہ خان نے کہا کہ آپ کو کس نے بتایا کہ میں نے وزیراعلیٰ کو تبدیل کروایا۔

انہوں نے کہا کہ کیا سب لوگ بانی پی ٹی آئی کی ہدایات کا انتظار نہیں کرتے؟ کیا یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سوچ یا فیصلہ نہیں کر سکتے؟ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک مضبوط انسان ہیں اور پاکستان میں سیاست کم اور کاروبار زیادہ ہو رہا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے آخری پیغام میں سہیل آفریدی کو تیاری کرنے اور اسٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کی ہدایت دی ہے، جمہوریت عوام کا نام ہے اور جو عوام کا دل کرے وہی جمہوریت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ بانی پی ٹی آئی کا نام نہیں لیں گے تو عوام آپ کو نہیں دیکھیں گے۔

وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: علیمہ خان نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی چاہتے ہیں انہوں نے ہیں اور ہے اور

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن