امریکی امیگریشن حکام کی حراست میں 4 تارکین وطن ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
خبر رساں ایجنسی کے مطابق نئے سال 2026ء کے ابتدائی 10 دنوں میں 4 تارکین وطن ہلاک ہوئے۔ امریکی امیگریشن حکام نے بھی ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی امیگریشن حکام کی حراست میں مزید 4 تارکین وطن ہلاک ہو گئے۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق نئے سال 2026ء کے ابتدائی 10 دنوں میں 4 تارکین وطن ہلاک ہوئے۔ امریکی امیگریشن حکام نے بھی ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال امریکی امیگریشن حکام کی حراست میں 30 افراد مارے گئے تھے۔ امریکی امیگریشن حکام کی حراست میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد گزشتہ 2 دہائیوں میں مرنے والوں کی تعداد کی بلند ترین سطح پر ہے۔ امریکی انسانی حقوق تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی امیگریشن حراستی مراکز بند کیے جائیں۔ یاد رہے کہ امریکی امیگریشن آفیسر نے گزشتہ ہفتے ریاست مینی سوٹا میں 3 بچوں کی ماں کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ امریکی عوام نے اندوہناک قتل پر ریاست کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی امیگریشن حکام کی حراست میں تارکین وطن ہلاک
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔