بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کے حوالے سے اگر انتظامیہ اور متعلقہ محکمے کے درمیان کوئی انتظامی یا مالی نوعیت کا اندرونی معاملہ درپیش ہے تو اسے باہمی مشاورت کے ذریعے بیٹھ کر حل کیا جائے۔ انتظامی اختلافات یا داخلی امور کی آڑ میں کسی ایک بھی انسان کی زندگی کے ساتھ کھیلنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان نے ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کی بندش پر شدید تشویش اور گہری ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کی بندش درحقیقت عوام، خصوصاً غریب، مجبور اور مستحق مریضوں کی قیمتی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ‎گلگت بلتستان کے بہت سے مریض کینسر اور دیگر موذی امراض میں مبتلا ہو کر ملک کے مختلف سرکاری و نجی ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ فنڈ کی بندش اور ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے ان مریضوں کو علاج سے محروم کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ بعض مریضوں کو ہسپتالوں سے فارغ بھی کیا جا چکا ہے، جو انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ ‎مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ کینسر جیسے جان لیوا مرض میں مبتلا مریض اس وقت حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ مالی وسائل نہ ہونے کے باعث مجبور و لاچار مریض اور ان کے اہلِ خانہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، جو ایک فلاحی ریاست کے اصولوں کے سراسر منافی ہے۔

‎ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کے حوالے سے اگر انتظامیہ اور متعلقہ محکمے کے درمیان کوئی انتظامی یا مالی نوعیت کا اندرونی معاملہ درپیش ہے تو اسے باہمی مشاورت کے ذریعے بیٹھ کر حل کیا جائے۔ انتظامی اختلافات یا داخلی امور کی آڑ میں کسی ایک بھی انسان کی زندگی کے ساتھ کھیلنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ علاج کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنا براہِ راست انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہو گی۔ ‎مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان حکومتِ گلگت بلتستان اور بالخصوص نگران وزیر اعلیٰ سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس سنگین انسانی مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کریں، ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور زیرِ علاج مریضوں کے تمام واجبات بلا تاخیر ادا کیے جائیں تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے اور قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔ ‎مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان واضح کرنا چاہتی ہے کہ باقی تمام امور بعد میں بھی نمٹائے جا سکتے ہیں، مگر انسانی جان سے بڑھ کر کوئی چیز قیمتی نہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ذمہ داران اس حساس معاملے میں اپنی اخلاقی، آئینی اور انسانی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ فنڈ کی بندش کیا جا

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات