ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کی بندش غریب مریضوں کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے، مرکزی انجمن امامیہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کے حوالے سے اگر انتظامیہ اور متعلقہ محکمے کے درمیان کوئی انتظامی یا مالی نوعیت کا اندرونی معاملہ درپیش ہے تو اسے باہمی مشاورت کے ذریعے بیٹھ کر حل کیا جائے۔ انتظامی اختلافات یا داخلی امور کی آڑ میں کسی ایک بھی انسان کی زندگی کے ساتھ کھیلنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان نے ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کی بندش پر شدید تشویش اور گہری ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کی بندش درحقیقت عوام، خصوصاً غریب، مجبور اور مستحق مریضوں کی قیمتی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ گلگت بلتستان کے بہت سے مریض کینسر اور دیگر موذی امراض میں مبتلا ہو کر ملک کے مختلف سرکاری و نجی ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ فنڈ کی بندش اور ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے ان مریضوں کو علاج سے محروم کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ بعض مریضوں کو ہسپتالوں سے فارغ بھی کیا جا چکا ہے، جو انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ کینسر جیسے جان لیوا مرض میں مبتلا مریض اس وقت حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ مالی وسائل نہ ہونے کے باعث مجبور و لاچار مریض اور ان کے اہلِ خانہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، جو ایک فلاحی ریاست کے اصولوں کے سراسر منافی ہے۔
ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کے حوالے سے اگر انتظامیہ اور متعلقہ محکمے کے درمیان کوئی انتظامی یا مالی نوعیت کا اندرونی معاملہ درپیش ہے تو اسے باہمی مشاورت کے ذریعے بیٹھ کر حل کیا جائے۔ انتظامی اختلافات یا داخلی امور کی آڑ میں کسی ایک بھی انسان کی زندگی کے ساتھ کھیلنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ علاج کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنا براہِ راست انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہو گی۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان حکومتِ گلگت بلتستان اور بالخصوص نگران وزیر اعلیٰ سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس سنگین انسانی مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کریں، ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور زیرِ علاج مریضوں کے تمام واجبات بلا تاخیر ادا کیے جائیں تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے اور قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان واضح کرنا چاہتی ہے کہ باقی تمام امور بعد میں بھی نمٹائے جا سکتے ہیں، مگر انسانی جان سے بڑھ کر کوئی چیز قیمتی نہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ذمہ داران اس حساس معاملے میں اپنی اخلاقی، آئینی اور انسانی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ فنڈ کی بندش کیا جا
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔